بلاوا

بلاوا
پیارے دوستو! آپکی محبتوں کا ڈھیروں شکریہ۔ جو آپ نے میرا سفر نامہ’’گھر کیسا لگتا ہے‘‘پڑھا، اسے دل و جان سے سراہا،رسالوں ، اخبارات، جرائد، فونز، ای میلز اور خطوط کے ذریعے جس خوبصورت انداز سے آپ سب نے میری حوصلہ افزائی کی۔ میں انشاء اللہ زندگی بھر یاد رکھوں گا۔
پیارے دوستو! میں نے بھی آپکی طرح سنا تھا کہ اللہ کے گھر حرم پاک میں بغیر منظوری کے نہیں جایا جا سکتا۔ چاہے وہ کتنا بڑا بھی رئیس کیوں نہ ہو۔ اللہ جانتا ہے یہ بہت بڑا سچ ہے میری آنکھوں نے یہ سب دیکھا ہے۔
قارئین کرام ! آپکو یاد ہو گا۔ سفر نامہ’’گھر کیسا لگتا ہے‘‘ کے آخری صفحہ نمبر 180 کی آخری دو سطریں یہ تھیں۔
’’ہم پھر سے ایک ’’بلاوے‘‘ کے شدت سے منتظر ہیں۔ جس سے اچھا دنیا کے کسی بھی کونے کا سفر ہو ہی نہیں سکتا۔ اب دیکھئے! کب آواز پڑتی ہے‘‘۔
رب العالمین نے ہی یہ الفاظ لکھوائے ورنہ کس کی جسارت جو قلم بھی چلا سکے۔اور پھر آپ سب کی دعاؤں کے صدقے بلاوا آ گیا۔اس گنہگار کو اللہ پاک نے مکہ اور مدینہ شریف کی زیارات کیلئے منظورفرما لیا۔ اور وہ بھی اکیلے نہیں۔ اس عظیم رشتے کے ساتھ، کہ جس کا ساتھ ہو تو دوزخ حرام ہو جاتی ہے۔ ’’ماں‘‘
میری پیاری والدہ محترمہ،۔ میرا بڑا بیٹا (حسنات عظیم)بھابھی (فرزانہ امتیاز) بھتیجی (نورالعین) بھتیجا (عمر عظیم) اور میں شریک سفر حرم تھے۔ چند دن پہلے تک ہمیں خبر بھی نہیں تھی۔ ہمارے تمام تر سفری و دیگر اخراجات سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار مقیم میرے بھائی عبدالستار طارق (پروجیکٹ ڈائریکٹر) امتیاز احمد (پروجیکٹ انجینئر) اشفاق احمد (پراجیکٹ انجینئر) اور انگلینڈ میں بسلسلہ روزگار مقیم میرے بھائی عمران احمد (مینجر پنک گارکک ریسٹورنٹ) اعزاز سمجھ کر اٹھا رہے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی خوش قسمتی ہے میرے بھائیوں کی ، کہ انہیں یہ نیک شرف حاصل ہوا۔ اور میں خوش نصیب ہوں۔ کہ اللہ نے مجھے اتنے اچھے بھائی اور دوست عطا کئے۔ ویزہ ، پاسپورٹ، ٹکٹس کی تمام تر ذمہ داری بھائی اخلاق احمد احتشام (ڈائیریکٹر لیگل ویز) نے بخوبی نبھائی۔ ہمارے سفری سامان، رختِ سفر جس میں ضروری اشیاء خوردو نوش، فرسٹ ایڈ، احرام کی چادریں اور لاہور انٹر نیشنل ائیر پورٹ تک ٹرانسپورٹ کا انتظام میرے بھائی اعجاز احمد ،طاہر صاحب سول انجینئر نے بڑی چاہتوں سے کیا تھا۔ رشتہ داروں ، عزیزوں، دوستوں کی مبارکباد کی کالیں آ رہی تھیں۔ ہم نے تو جس دن روانہ ہونا تھا۔ اخلاق احمد نے تمام سفری کاغذات لا کر مجھے تھمائے۔ اتنی بڑی سعادت اور مجھ جیسا گنہگار۔ قلب و زباں سے اللہم لبیک جاری ہو گیا۔
کرماں باہج پیارا جیون کوئی نا
بھاویں سر تے لعلاں دی پنڈ ہووے
یعنی بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ کے کرم کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا۔ چاہے آدمی کے پاس ہیرے جواہرات کا ڈھیر بھی کیوں نہ ہو۔
ہمیں پاکستان سے 29مئی 2007ء کو علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پورٹ لاہور سے جدہ، سعودی عرب اےئر لائن کی پرواز SV739 سے، بوقت 8:40(pm) روانہ ہونا تھا۔ لاہور ائیر پورٹ 5 بجے پہنچے۔ ہمارے پاس کافی وقت تھا۔ سب کو خدا حافظ کہنے کے بعد ہم سکیورٹی سیکشن سے گزرتے گزرتے بورڈ نگ کاؤنٹر پر پہنچے۔ پتہ چلا کہ یہ فلائٹ پہلے مدینہ پاک ایک گھنٹہ رکے گی۔ پھر جدہ کیلئے روانہ ہو گی۔ یہ بھی بڑی سعادت کی بات تھی۔ کہ آقائے دو جہاں کی مقدس سرزمین کی قدم بوسی کا اعزاز پہلے حاصل ہو رہا تھا۔ بورڈنگ اور سامان کی بکنگ کے بعد کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا ۔ حسنات عظیم (ہنی) کی کافی معاونت رہی کیونکہ سامان کی ایک ٹرالی کوو ہ دھکیل کر لایا تھا۔
امیگریشن کاؤنٹر پر خوش شکل لیڈی آفیسر بیٹھی ہوئی تھی۔ کاؤنٹر کافی اونچا تھا۔ اور اسے CAM سے ہم سب کی تصاویر لینی تھیں۔ سو میں نور کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر کیمرے کی آنکھ کے سامنے لے گیا۔ اس نے تصویر کیپچر کر لی۔ اور پھر اس نے میری طرف دیکھا۔ اور پھر اس نے یہ سوچتے ہوئے کہ مسافر کو تکلیف نہ ہو۔ کیمرے کو کاؤنٹر کے اس زاویے پر لے گئی۔ جہاں سے ہر بچے کی تصویر بغیر اٹھائے باآسانی لی جا سکتی تھی۔
میں نے تشکر آمیز نگاہوں سے امیگریشن آفیسر کو دیکھا سب کے پاسپورٹس پر Exit کی سٹیمپ لگ چکی تھی۔اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد میں اپنے کارواں کو لیکر آگے بڑھا۔ ہال میں ہر طرف مجھے نور ہی نور نظر آ رہا تھا۔ سفید اجلے اجلے احرام اور چادروں میں مرد و زن چلتے ،پھرتے اور بیٹھے نظر آ رہے تھے۔ سب مسافر وں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔باتھ رومز کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ ہمیں احرام باندھنا تھا۔ ایک سو یپر نے میری مدد کیلئے معذوروں (Handicaped) والے باتھ روم کی آفر کی۔ میں اسے ممنون نگاہوں سے دیکھتا ہوا اس باتھ روم میں داخل ہو گیا۔ سویپر نے باہر سے دروازہ لاک کر دیا۔
تاکہ ائیر پورٹ کے عملے کو خبر نہ ہو۔ خاصا کشادہ باتھ روم تھا۔ میں آرام و تحمل سے احرام باندھنے کی پریکٹس کرتا رہا۔ مکمل تیاری کے بعد باہر آیا۔ پھر بچوں کو لیکر دوبارہ باتھ روم گیا ۔ ان کے احرام باندھنے میں معاونت کی۔ مکمل تیار ہونے کے بعد باہر آ کر سویپر کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے کپڑے ،شوز اور کچھ نقدی سویپر کو دی۔ پھر ائیر پورٹ کے اندر ہی واقع مسجد میں نماز اور نوافل ادا کرنے کے لئے گئے۔ خدائے بزرگ برتر سے سب کی خیر و برکت ، امت مسلمہ کی بہتری اور پاکستان کی سا لمیت اور اپنے گناہوں سے توبہ کی دعا کرتے کرتے ہم باہر ہال میں آگئے۔
فلائٹ کا ٹائم نزدیک تر تھا۔ لیکن جہاز پر جانے کا اعلان نہیں ہو رہا تھا۔ تشویش کے ساتھ میں چلتا چلتا ائیر پورٹ کے ایک ملازم کی طرف گیا۔ جس نے مجھے بتایا کہ کچھ ٹیکنیکل پرابلمز کی وجہ سے جہاز لیٹ ہو گیا ہے۔
میںہال میں شیشے سے باہرکھڑے اس جہاز کو دیکھ رہا تھا۔ اچھا خاصا تو کھڑا تھا۔ یہ لیٹ کیسے ہو گیا۔کیونکہ اس دیری نے حرم سے دوری کا اضطراب اور بڑھا دیا تھا۔ خیر اللہ اللہ کر کے رات 10:40 پر جہاز نے take off کیا ۔سعودی عرب ائیر لائن کا عملہ تازہ دم اور چاق چوبند تھا۔ جو ہر مسافر کو بہت منظم اور مہذب انداز میں مسکراہٹوں کے ساتھ خوش آمدید اور سیٹوں کی راہنمائی کر رہا تھا۔ ہماری آگے پیچھے دو لائینوں میں چھ سیٹیں تھیں۔جہاز کے ریکارڈنگ سسٹم اور مسافروں کی زبانوں پر
اللھم لبیک کانوں میں رس اور دل و دماغ کو سکون بخش رہا تھا۔ سیٹ بیلٹس باندھے جا چکے تھے۔تھوڑی ہی دیر بعد جہاز نے عاجزانہ طور پر ارض مقدس پر جانے کیلئے زمین پر سے اپنے قدم اٹھا لئے۔ عملے کے علاوہ جہاز پر 419 مسافر دل بے قرار کے ساتھ ہوا میں اڑتے اللہ اکبر کی صدا بلند کر رہے تھے۔ اور نج ایپل اور گریپ جوس تھوڑی ہی دیر بعد سرو کیے جانے لگے۔میری سیٹ کے دائیں جانب میری والدہ بیٹھی ہوئی تھیں بائیں جانب بھتیجا، عمر بار بار سیٹوں کے تبادلے سے اس کا احرام کبھی اوپر اور کبھی نیچے سے اتر جاتا تھا۔ بڑی عمر کے مسافر ہمارے ننھے منے مسافروں کو احرام میں دیکھ کر مسکراتے اور قابل رشک نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ حسنات اور عمر مختلف سوالات بھی کرتے۔ عملے نے چلڈرن میل (meal) پہلے دیا۔ جس میں چکن اسٹیک ،بن جوس اور چاکلیٹ تھے۔ بڑوں کا کھانا ابھی نہیں آیا تھا۔ بچے ہمیں فراغ دلی سے اپنا کھانا آفر کر رہے تھے۔ اور ہم مزے لے کر ان کا ساتھ دے رہے تھے۔ نہایت مزیدار کھانا تھا۔ اس کھانے پر ہاتھ صاف کرنے تک بڑوں کا کھانا آ گیا۔ جس میں مٹن لیمب، ویجیٹیبل رائیس، سلاد اور سویٹ ڈش تھیں۔ پھر اس کھانے پر ہم نے طبع آزمائی شروع کر دی۔ کھانے سے فراغت کے بعد بچے واش روم جانا چاہتے تھے۔باری باری میں ان کو واش روم لیکر گیا۔ اب وہ سونا چاہتے تھے، جہاز کے مستعد عملے نے انہیں کمبل فراہم کیے۔ اور وہ نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک رب ذوالجلال ہے جسے اونگھ بھی نہیں آتی۔ ٹرالیوں کی کھنک سے اور چائے کافی کی بھینی بھینی خوشبو سے پھر آنکھیں کھل رہی تھیں۔ چائے کافی جوس پیش کرنے کے بعد اعلان ہوا کہ ہم مدینہ پاک تھوڑی سی دیر بعد اترنے والے ہیں۔
لوکل ٹائم 1:00(am) بج چکا تھا۔ مدینہ پاک کی مقدس سر زمین پر جہاز اترا ۔ ایک گھنٹہ قیام تھا۔ جدہ جانے والے مسافر جہاز میں ہی بیٹھے رہے۔ مدینہ والے مسافر اتر گئے۔ میرے لبوں پر مختلف نعتیں رواں تھیں۔ میں اپنے تمام دوستوں، عزیزوں اور قارئین سے گزارش کرونگا کہ بخدا ہماری نجات، ہماری بخشش، عافیت، کامیابی کا ذریعہ صرف اور صرف آقائے کُل، رحمۃ العالمین کے پیارے قدموں کی خاک میں ہے۔امریکہ، یورپ یا جاپان میں نہیں ہے۔ لہٰذا دنیا کے کسی بھی کونے کے سفر پر روانہ ہونے کے لئے دل میں اس ارض مقدس کے سفر کا عزم کریں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں ۔دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گے۔
سعودی ائیر لائن کی پرواز SV739 نے پھر سے اپنے پر پھیلائے اور جدہ کیلئے روانہ ہو گئی۔ جدہ ہم 2:50(am) لوکل ٹائم پر پہنچ چکے تھے۔ امیگریشن کاؤنٹر سے کلئیر نیس کے بعد نگاہ جب باہر اٹھی ۔ تو اپنوں کے مسکراتے ہوئے ہشاش بشاش چہرے اور آنکھیں ہماری طرف ٹکٹکی باندھے بے صبری سے ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ جو گذشتہ شب سے ہمارے لئے سوئے بھی نہیں تھے۔بڑے بھائی طارق صاحب، بھابھی رضیہ طارق(کائنات ،عائشہ عبداللہ) سے By car انتہائی تھکا دینے والے سفر سے آئے ہوئے تھے۔ اور بھائی امتیاز ، بھائی اشفاق اپنی اپنی جابز سے تھکن کے باوجود سیدھا یعنی ریاض سے مکہ ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔
یہ خوبصورت استقبال مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔ گلے ملتے سر، ماتھا چومتے ہمارا سامان ٹرالیوں سے خود لیتے لیتے پارکنگ کی طرف آ گئے۔ امتیاز اشفاق صاحب نے اپنی گاڑی میں بچوں کو بٹھایا اور سامان رکھ لیا۔ میں امی اور دیگر بھابھیات بھائی طارق کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔دونوں گاڑیاں جدہ انٹر نیشنل ائیر پورٹ( جسے شاہ عبدالعزیز ائیر پورٹ کا نام بھی دیا جاتا ہے )سے مکہ کی طرف روانہ ہو گئیں جہاں پر امتیاز صاحب اور اشتیاق صاحب کے گھر تھے۔ ہماری بہت بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ یہ دونوں بھائی مسجد عائشہ کے ہمسائے ہیں جسے مسجد عمرہ بھی کہتے ہیں۔ اور جو میکوۃ (حد حرم) بھی ہے۔ جدہ شہر سے مکہ پاک تقریباً 60 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ راستے میں خوبصورت مناظر، چھوٹے چھوٹے پہاڑ سڑک کے دونوں جانب نظر آ رہے تھے۔ نور، روشنیوں کا شہر اللہ کا گھر نزدیک ہوتے جا رہے تھے۔ ایک بہت بڑا سائین بورڈ مکہ کی حدود کے میں داخل ہونے سے پہلے نظر آ یا جس میں انگلش،عربی میں الفاظ لکھے تھے۔ غیر مسلم کیلئے علیحدہ سڑک نکالی گئی ہے اور بورڈ پر لکھا تھا (No entry for non Muslims) ہم اب رہائش گاہ کے قریب پہنچ چکے تھے بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر یہ رہائش گاہ کشادہ ،صاف، ہوادار اور خوبصورت تھی۔ جس میں تین بیڈ رومز، کشادہ ہال، کچن اورڈ رائنگ روم کے ساتھ کھلے کھلے باتھ روم تھے۔ دروازے کے ساتھ اندر کی جانب ٹیریس سے مسجد عائشہ سامنے دکھائی دیتی تھی کمرے کی دوسری جانب والی کھڑکیوں سے پہاڑی سلسلہ نظر آتا تھا۔ اپنا سامان اندر ہال میں رکھنے کے بعد سب سے پہلے حرم پاک جانے کیلئے تیاری شروع کر دی۔تھوڑی سی دیر بعد ہمارا سارا قافلہ حر م پاک کی جانب جا رہا تھا ۔ اللھم لبیک کی دلسوز آوازوں کے ساتھ۔ آنکھوں سے آنسو رواں دواں تھے۔ خدا کی قسم یہ لطف و کرم اوراتنا خوبصورت منظرپہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ فجر کی اذانیں ، تاریکی سحرکو روشنی کی جانب بدل رہی تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ ہماری تاریک زندگی بھی انشا اللہ روشن سحر میں بدل رہی ہے۔ مسجد عائشہ سے حرم پاک، خانہ کعبہ کا فاصلہ تقریباً سات کلو میٹر ہے۔ تھوڑی سی دیر بعد ہماری گاڑیاں ہموار سڑک سے بلندی کی طرف جانے لگیں۔ اور پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سبحان اللہ۔ کیا منظر دیکھنے میں آیا۔ پیارے حرم پاک کے روشن مینار نظر آنے لگے۔ سبحان اللّٰہ ، ماشااللّٰہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دھڑکتے دلوں اور عاجزی کے ساتھ گاڑی سے اترے۔ گاڑ یاں پارک کی گئیں۔ اب ہم شاہ فہد گیٹ نمبر 79 حرم پاک کے باہر کھڑے تھے۔ چھوٹے بڑے ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔ اور ایک دوسرے سے کی گئی جانی، انجانی غلطیوں پر معذرت خواہ ہوئے۔ پھر میں نے ماں کے قدموں کو چھوا۔ جس کے صدقے ہمیں آج یہ دن نصیب ہوا تھا۔ ماں نے ہمارے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ اور پھر تمام لوگ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیت اللہ میں داخل ہونے لگے۔ خانہ کعبہ ،جس پر پہلی نگاہ پڑتے ہی اللہ پاک آپکو ایسے بنا دیتا ہے گویا آپ نے ابھی جنم لیا ہو، تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ دیکھئے اللہ نے بخشش کیلئے کتنی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ کعبہ پر نگاہ پڑتے ہی آپ جو نیک تمنائیں ،دعائیں کرتے ہیں۔ اللہ پاک انہیں ضرور قبول فرماتے ہیں۔
قدم آہستہ آہستہ کعبہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ میری حالت اس وقت اس فوجی جوان کی طرح تھی کہ جس کے سامنے کوئی جرنیل کھڑا ہو۔ میں زیادہ با ادب ہو کر چلنے لگا اور میرا داہنا ہاتھ سیلوٹ کیلئے بلند ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کا جلال محسوس ہو رہا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو اور دل سے بے اختیار دعائیں نکل رہی تھی۔ فجر کی اذان ہو چکی تھی۔ با جماعت نماز ادا کرنے کے بعد ہم نے عمرہ کی تیاری شروع کی۔ یہاں میں آپکو بتانا چاہوں گا کہ عمرہ کیا ہے؟
عمرہ کیا ہے؟
لغت میں عمرہ کے معنی زیارت کے ہیں۔ اور شرعی معنی میقات سے احرام باندھ کر خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور صفاو مروہ کے درمیان سعی کرنے کے ہیں۔ عمرہ کو حج اصغر بھی کہتے ہیں۔ صاحب استعطاعت اور اہل ثروت
کے لئے عمر بھر میں ایک مرتبہ عمرہ ادا کرنا سنتِ موکدہ ہے۔ اور بعض علماء کے نزدیک واجب۔
حدیث شریف سے عمرہ کی بہت فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ خصوصاً رمضان شریف میں عمرہ کرنے کو تو حضور اکرم ؐ نے اپنے ساتھ حج کرنے کے برابر فرمایا ہے۔
عمرہ کے فرائض و واجبات:
عمرہ میں دو عمل فرض ہیں۔
(ا) احرام (۲) خانہ کعبہ کا طواف
پھر احرام میں دو باتیں فرض ہیں۔(۱) نیت (۲) تلبیہ اور طواف میں صرف نیت فرض ہے۔ عمرہ میں دو باتیں واجب ہیں۔
(ا) صفا و مروہ کے درمیان سعی (۲) طواف و سعی سے فراغت کے بعد سر منڈوانا ۔ یا بال کتروانا
عمرہ کا طریقہ:
میقات کیا ہے؟ میقات وہ حد ہے جہاں حرم کی ابتداء ہوتی ہے۔
احرام میقات سے پہلے بھی باندھا جا سکتا ہے۔ اور میقات پر پہنچ کر بھی ۔البتہ بغیر احرام کے میقات عبور نہیں کرنا چاہئے۔جب احرام باندھنے کا ارادہ ہو تو پہلے غسل کرے۔ حجامت کرائے۔ناخن کٹائے، اور بدن اور غیر ضروری بالوں کی صفائی کرے۔پھر احرام کی چادریں پہن لے۔ احرام کی چادریں ان سلی ہوں۔ایک چادر بطور تہہ بند اور دوسری بدن پر اوڑھ لے۔ خواتین کیلئے ایسا نہیں ہے۔دو رکعات نفل ادا کرے۔ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون، دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھے۔ عمرہ کی دل میں بھی نیت کی جائے۔ اور زبان سے یہ الفاظ ادا کرے۔
عمرہ کی نیت:
اے اللہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔ آپ میری طرف سے اسے قبول فرمائیے۔ اور اسکی ادائیگی میرے لئے آسان فرما دیجئے۔
پھر تین مرتبہ تکبیر پڑھے۔خواتین آہستہ آواز میں تکبیر پڑھیں،
(لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک،ان الحمد، وانعمت لک و الملک)
پھر خانہ کعبہ کے گرد طواف کیلئے سات چکر لگائے۔ اور جو بھی نیک اور اچھی دعائیں، وہ جس زبان میں بھی پڑھنا چاہے پڑھے۔ہر چکر کے راستے میں رکنِ یمانی اور حجر اسود دو مختلف کونوں میں واقع ہیں۔ رکنِ یمانی کے بارے میں ہے کہ اسے حضور نبی کریمؐ نے اپنا داہنا دست مبارک لگایا تھا۔اور حجر اسود کو بوسہ دیا تھا۔اگر ایسا خو بھی کر سکے تو کرے۔ اگر رش کی وجہ سے نہ بھی کر سکے تو اس طرف ہاتھ بلند کرے۔بسم اللہ، اللہ اکبر، اللہ اکبر پڑھ لے۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارا طواف مکمل ہو چکا تھا۔ اب ہمیں صفا و مروہ کی سعی کرنا تھی۔ آب زمزم کے ٹھنڈے اور گرم کولر جگہ جگہ سلیقے سے بڑی تعداد میں رکھے گئے ہیں۔ ساتھ ڈسپوز ایبل گلاس پڑے ہیں۔جتنا چاہیں پئیں،یہ آبِ شفا ء ہے۔یہاں کعبہ سے چند قدم آگے بڑھیں تو صفا ہے۔ یہاں سے آپ بلند جگہ پہ کھڑے ہو کر کعبہ کی طرف دیکھیں اور دعا کریں۔ پھر آپ صفا سے مروا کی طرف چلنا شروع کر دیں۔ پھر ایک جگہ پر سبز لائٹوں کا نشان ہے۔ وہاں سے آپ حضرت حاجرہ ؑ کی سنت کو تازہ کرنے کیلئے تیز تیز چلنا یا دوڑنا شروع کر دیں۔ پھر دوسرے سبز نشان پر جا کر پھر سے آرام سے چلنا شروع کر دیں۔
سعی کا مختصر بیان، ضروری مسائل اور طریقہ۔
۱۔ سعی کے لفظی معنی دوڑنے کے ہیں۔ اور شرعی معنوں میں صفا و مروہ کے درمیان مخصوص طریقہ سے سات چکر لگانے کو سعی کہتے ہیں۔
۲۔ سعی کے لئے کچھ رکن و شرائط، واجبات و سنن اورمستحبات ہیں۔
۳۔ سعی کا رکن صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا ہے۔ اگر ان کے درمیان سعی نہیں کی اور ادھر ادھر چکر لگائے تو سعی نہیں ہوتی۔
۴۔ سعی کی اہم شرائط یہ ہیں۔
۱) بیمار، معذور، اپاہج نہ ہو تو پیدل سعی کرے۔مجبوری میں سوار ہو کر سعی کر سکتا ہے۔
۲) بلا عذر سواری پر سعی کرنے سے جرمانہ کی قربانی دینا ہو گی۔
۳) پورا طواف یا اس کے زائد چکر لگانے کے بعد سعی کرنا ،عمرہ کی سعی بغیر احرام کرنے سے جرمانہ کی قربانی دینا ہو
گی۔
۴۔ طواف کے بعد سرمنڈوا کر سعی کرنے سے سعی تو ہو جائے گی مگر جرمانہ کی قربانی دینا ہو گی۔
۵۔ صفا سے شروع کرنا۔ اگرمروہ سے شروع کی تو پھر یہ شمار نہ ہو گا۔
سعی کے بعد عمرہ کے ارکان پورے ہو گئے۔ اب عمرہ کے احرام سے حلال ہونے کیلئے سر منڈوادیجئے۔ یا مشین سے بال کٹوائے۔بال کٹوانے کے بعد احرام کی چادریں اتار دیجئے،غسل کیجئے، لباس پہنئے۔ آپ کا عمرہ پورا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔اگر مکہ مکرمہ میں کچھ روز قیام کا ارادہ ہے۔ اور وقت کی گنجائش ہے۔تو ضرور اللہ کی میزبانی کا لطف اٹھائیے۔
پانچوں وقت کی نمازیں حرم شریف میں باجماعت پڑھیے۔ کیونکہ یہاں پڑھی گئی ایک نماز باہر کی ایک لاکھ نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔
آپ اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں کیلئے بھی عمرہ ادا کر سکتے ہیں۔
(برائے خواتین)
۱۔ عورت احرام میں سلے ہوئے کپڑوں میں رہے۔ صرف چہرہ کھلا رکھے سر کھلا نہ رکھے۔
۲۔ تکبیر یا دعائیں بلند آواز میں نہ پڑھے۔ آہستہ پڑھے۔
۳۔ سعی کے وقت مردوں کی طرح جھپٹ کر نہیں عام چال چلے۔
۴۔ سعی سے فارغ ہونے کے بعد اپنی چوٹی کے آخری سرے سے صرف ایک پور انگلی کے برابر ابال خود یا اپنے محرم سے کتروائیں۔
۵۔ بغیر محرم کے حج و عمرہ پر نہ جائے۔
۶۔ ایام ماہواری کی حالت میں طواف منع ہے۔ پاکی کی حالت میں طواف کے بعد اگر ایام شروع ہو جائیں۔ تو سعی ایسی حالت میں کرنا جائز ہے۔ عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اب اس عظیم ترین گرامی آقائے دو جہاں سردارلانبیاء کی بارگاہ عقیدت میں حاضری دیجئے۔ جنکے صدقہ اور طفیل آپکو اپنے رب معبود کے دربار میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
ہمارا عمرہ مکمل ہو چکا تھا۔
جب میں سر منڈوانے کیلئے باربر کی شاپ پر گیا۔ یہ حرم پاک سے باہر بہت بڑی تعداد میں فوڈ شاپس، انٹر نیشنل ہوٹلز، اعلیٰ ریسٹورینٹس، گفٹ، جیولری شاپس ہیں۔ دو تین باربر شاپس پر سر منڈوانے کی اجرت پوچھی زیادہ نے خمسہ ریال(5ریال) بتائی۔حجام بھی زیادہ تر پاکستانی تھے۔ میں نے سوچا کیوں نہ پاکستانی ڈیل کی جائے۔ کچھ اربع ریال (4ریال) بتارہے تھے۔ اس سے کم نہیں کرتے تھے۔ میں نے ایک ایجنٹ کو کہا جو باہر آوازیں لگا رہا تھا ۔میں نے کہا کہ تین ریال دوں گا۔ کہنے لگا آجاؤ۔ سیٹ پر بٹھا کر کاریگر کو بولا۔ اس سے تین ریال لے لینا۔ کاریگر کہنے لگا اچھا اچھا۔۔۔
’’تو یہ سرکاری ٹنڈ ہے۔‘‘ اور اس طرح ایک طویل عرصے کے بعد
ٹنڈ چھمکنا راوی دا !
بنے تے بے کے ناوی دا !
سب ممبران اللہ میاں کے گھر سے اللہ حافظ کہتے ہوئے باہر اپنی گاڑیوں میں واپس گھر کی جانب روانہ ہوئے۔ جب آپ بیت اللہ میں داخل ہوتے ہیں۔تو دنیا کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ اور جب آپ بیت اللہ سے باہر آتے ہیں۔ تو آپکو جدائی کا انتہائی احساس ہونے لگتا ہے۔ گھر پہنچنے پر تازہ پھلوںکا جوس، پائے، چنے، بریڈ، لسی، آملیٹ ، پراٹھے، چائے، غرضیکہ کیا کچھ نہیں تھا ناشتے میں۔
سعودی عرب میں کھانے پینے کی اشیاء 100 فیصد خالص اور تازہ ہوتی ہیں۔ تبھی تو میں سوچوں میرے بھائی اتنے موٹے کیسے ہو گئے ہیں۔ ہمیں تو ایسا پروٹوکول ملا تھا۔ جیسے ہم ہم نہیں کسی ملک کے صدر ہیں۔ اب جناب آرام دہ بستر ہمارے منتظر تھے۔۔۔۔۔تھوڑی سی دیر بعد راستے میں کھڑے خواب میرا انتظار کر رہے تھے۔ خوابوں کی حسین وادیوں میں گھومتے گھومتے کئی گھنٹے بیت چکے تھے کہ کانوں میں مسجد عائشہ سے ظہر کی اذان رس گھولنے لگی۔
سب گھر والے اٹھ گئے۔ مسجد عائشہ میں جا کر نماز ظہر ادا کی۔ قرآن پاک کی تلاوت کی۔ سبحان اللّٰہ۔ واپس گھر آئے۔ اب چائے ہمارے انتظار میں تھی۔ چائے کے ساتھ کمال کی بیکری( جو مجھے حسنات، عبداللہ، عمر کو بے حد پسند) تھی۔ اب مختلف عزیزوں دوستوں، رشتہ داروں کی جانب سے فون کالز بھی شروع ہو چکی تھیں۔ جن میں عمرے کی مبارکباد ۔اور دعوت کیلئے اصرار تھا۔ بڑے بھائی طارق نے اعلان کیا کہ سب سے پہلے دعوت جدہ میں مقیم رہائش پذیر انکے سسرالی عزیزاکرم ملک صاحب کے گھر میں کھائی جائے گی۔ کیونکہ وہ ان سے وعدہ کر چکے تھے۔ سو نماز عصر کے بعد سب لوگوں نے جدہ جانے کی تیاری کی اور ہم جدہ کیلئے روانہ ہو گئے۔
جدہ مکہ سے تقریباً 60 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ صاف ستھری کشادہ سڑکیں ،آبادی میں بارونق بازار، آبادی سے باہر چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلے، سڑک کے دونوں اطراف خوبصورت مناظر پیش کرتے ہیں۔ گھروں کے طرز تعمیر بہت منفرد اور خوبصورت درخت ،فضا میں پاکیزہ ہوا، سب امن اور محبت کا سکون دہ سلسلہ۔ عرب والوں کی خوش قسمتی ہے کہ پیارے نبیؐ کی وجہ سے یہ سب ہے۔ ایک خوش گوار سفر طے کرتے کرتے ہم جدہ میں مقیم اکرم صاحب کے گھر پہنچ گئے۔جہاں اکرم صاحب اور مسز اکرم صاحب نے ہمارا شاندار استقبال کیا۔ داخلی دروازے سے ہی کھانوں کی مہک اور مصالحوں (spices) کی خوشبو اس بات کی دلیل پیش کر رہے تھے کہ کھانے اور کھلانے والے بڑی بے صبری سے اپنے مہمانوں کا انتظار کر رہے ہیں۔
کولڈ ڈرنکس اور سویٹس سے خاطر تواضع کی گئی۔ اور پھر بلا تاخیر کھانا لگا دیا گیا۔ جس میں بکرے کے پائے، چکن پلاؤ، گوشت، شامی، سلاد، اور دیگر اشیاء رکھی گئی تھیں۔ یہ دیگر کا لفظ میں نے اس لئے لکھا ہے کہ کئی ڈشز مجھے یاد نہیں رہیں۔ بھائی حسن ندیم سے بھی ملاقات یہیں ہو گئی۔جو ہم سے ملنے خصوصی طور پر کافی دور سے تشریف لائے تھے۔کھانے کے بعد دیر تک گپ شپ اور ساتھ چائے ۔۔۔۔۔اور پھر بائے۔
امام کعبہ آجکل پاکستان گئے ہوئے ہیں، وہ جمعہ شاہ فیصل مسجد اسلام آباد پڑھائیں گے۔ ہم انشااللہ جمعہ حرم پاک میں پڑھیں گے۔واپسی پر بھائی طارق صاحب کو سڑک کے کنارے یمنی نظر آئے جو آم بیچ رہے تھے۔ دونوں گاڑیاں سائیڈ پہ کھڑی کر کے امتیاز میں اور بھائی جان ان آم بیچنے والوں کے پاس پہنچے۔ بھائی جان بھاؤ تاؤ کرنے لگے۔ اور امتیاز احمد آموں کی سلیکشن ۔ میں نے دیکھا دونوں یمنی اچانک فروٹ چھوڑ کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ چند منٹ پہلے وہ آموں کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دے رہے تھے۔ میں بڑا حیران ہوا۔ کہ یہ کیا ہوا؟ کہ انہوں نے فروٹ کو ہمارے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اتنی دیر میں مجھے پیچھے سے آنے والی بھاری بھر کم آواز نے ادھر دیکھنے پر مجبور کیا۔ گردن گھمائی تو دیکھا۔ کہ ایک جواں پولیس آفیسر عربی میں میرے بھائیوں سے بحث مباحثہ کرنے لگا۔ سائیڈ پہ ایک روٹر والی جیپ نظر آئی جس میں عربی لباس میں ایک مولوی صاحب بیٹھے نظر آئے۔
نماز کے معاملے میں سعودی عرب میں بہت سختی ہے۔نمازوں کے اوقات میں کوئی آدمی کاروبار کرتا اور فضول میں چلتا پھرتا نظر آئے تو یہ سپیشل ٹاسک فورس ہے انکو پکڑ کر لے جاتی ہے۔ اور عشاء کی نماز پڑھوا کر چھوڑتی ہے۔ بھائی صاحب نے پولیس آفیسر کو اپنے بارے میں پھر ہماری آمد کے بارے میں بتایا تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔باتوں کا فن کوئی بھائی جان سے سیکھئے۔
چلڈرن پارک:
سبھی بچوں کا بالخصوص کائنات بیٹی، عائشہ بیٹی حسنات، عمر، عبداللہ نور پارک جانے کیلئے بضد تھے۔ جدہ سے مکہ واپس آتے ہوئے مکہ کی حدود میں ایک بہت بڑا چلڈرن پارک ہے۔ جس میں ڈھیروں قسم کے جھولے، گیمز ہیں۔ وہاں پر چلے گئے۔ بچوں کی صحت مند تفریح کا بہت خیال رکھا گیا ہے۔ 5 ریال فی کس ٹکٹ تھا۔ ٹکٹس لے کر پارک میں داخل ہوئے۔ یہاں بے شمار جھولے، ڈاجم کازر، ہاررہاؤس ، کافی شاپس، ریسٹورنٹ تھے۔ بچوں نے خوب انجوائے کیا۔ کچھ ینگ عربی لڑکے لڑکیاں ڈاجم کارز پر اپنے جوہر دکھا رہے تھے۔ جس پر بچوں نے مجھے اصرار کیا کہ آپ ذرا ان عربی بچوں کو مزا سکھائیں۔اور یہ کہتے ہوئے مجھے بازؤں سے پکڑ میدان میں فاتحانہ انداز سے اتارا۔ عربی مجھے دیکھ کر ہنسے اور پھر عربی میں ہمکلام ہوئے جس پر میں نے جواباً انگریزی بول کر انہیں متاثر کرنے کی کوشش کی۔ گاڑیاں چل پڑیں۔ میری گاڑی میں کوئی فنی خرابی واقع ہو گئی۔ جس پر آ پریٹر نے مجھے اشارہ کیا کہ آپ دوسری گاڑیاں میں بیٹھ جاؤ۔ اسی اثناء میں مَیں جونہی دوسری گاڑی کی طرف بڑھا۔ اور ابھی دوسری گاڑی میں مکمل طور پر بیلٹ باندھ کر بیٹھا بھی نہیں تھا کہ پیچھے سے ایک شرارتی بچے نے زور دار ٹکر میرے والی گاڑی کو لگائی اور میں آگے کی طرف گرا۔
مجھے جو انہیں مزا چکھانے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ خود کمر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے کراہنے لگا تھا۔
عربی لوگوں سے پنگا نہیں لینے کا۔۔۔۔۔۔کیا؟
اللہ کا گھر:
اللہ کا گھر کعبہ مکہ میں ہے۔ اس کو جس کالے غلاف سے ڈھانپا گیا ہے۔ اسے ’’کسوٰی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ مکہ کی ایک سپیشل فیکٹری میں اسے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ ہر سال اس غلاف کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس پر تقریباً 17 ملین ریال خرچ آتا ہے۔ اس پر تقریباً 120کلو گرام خالص سونا اور50کلو گرام چاندی قرآنی آیات کے لکھنے پر استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تیاری میں تقریباً 670 کلو گرام چاندی کا دیگر استعمال ہے۔ اس مقدس اور بابرکت غلاف کا ایریا تقریباً 658 مربع میٹر ہے۔
یہاں اللہ کا گھر حرم اور مسجد بنوی میں ایک اور اہم بات دیکھنے میں آتی ہے کہ تقریباً ہر فرض نماز کے وقت یہاں پر میتیں بھی لائی جاتی ہیں۔ اور ہر فرض نماز کے بعد ان کا اجتماعی جنازہ بھی امام صاحب پڑھاتے ہیں۔
بوسہ حجر اسود:
دل میں تڑپ بھی بہت تھی کہ حجر اسود کا بوسہ لے سکوں۔ لیکن انتہائی رش اور عقیدت مندوں کے جوش کو دیکھ کر اتنا آسان نظر نہیں آتا تھا۔ بھائی عمران نے میری تڑپ کو اور دوبالا کر دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ بھائی جان جو مرضی ہو۔ جتنی بھی مشکلات کیوں نہ ہوں۔ آپ نے بوسہ ضرور کرناہے۔ کہ نصیبوں سے یہ وقت ہاتھ آیا ہے۔ قطار میں چانس لینے کی کوشش کی مگر صحت مند حاجیوں کے دھکوں اور زور سے درمیان میں پھنس گیا۔ سانس بند ہونے لگی۔
کچھ حاجیوں نے میری اس حالت کو دیکھا اور مجھے بازوؤں سے پکڑ کر زور سے باہر کھنچ کر نکالا۔ سچ ہے جب اللہ کی طرف سے منظوری ہوتی ہے تو خود بخود آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایک صاحب جو رکن یمانی پر کھڑے تھے۔ عربی لباس پہنا ہوا تھا۔ بڑا پر نور چہرہ تھا۔ لوگوں کو رکن یمانی کے بوسہ سے مختلف زبانوں میں منع کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ نبی پاکؐ نے اس مبارک پتھر کو اپنا داہنا دست مبارک لگایا تھا۔ آپ بھی صرف دائیں ہاتھ سے مسح کریں۔ جب انہوں نے پنجابی بولی تو میں چونکا۔ میں اس وقت غلاف کعبہ کے ساتھ لپٹا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا آپ پاکستانی ہیں انہوں نے کہا جی میرا نام عبدالعزیز ہے۔ میں پاکستان کے شہر گجرات کا رہنے والا ہوں۔ 15 سال سے سعودیہ میں مقیم ہوں۔ اور شاہراہ ہراتیہ پر میری باربر شاپ ہے۔
میں نے پوچھا آپ یہاں ڈیوٹی کیسے دے رہے ہیں۔ عبدالعزیز صاحب نے بتایا کہ پہلے میں اپنی دکان صبح 8 بجے سے لیکر رات بارہ بجے تک کھولتا تھا۔ پھر حرم کی محبت میں میں عطر کی دو شیشیاں خرید کر یہاں آ جاتا۔ اور آکر غلاف کعبہ کو عطر لگاتا۔ شروع شروع میں مجھے یہاں کے سکیورٹی اور سٹاف نے منع کیا۔لیکن پھر بعد میں میری عاجزی و انکساری اور عقیدت کو دیکھ کر مجھے ایسا کرنے سے نہیں روکا گیا۔ اب مجھے زیادہ تر عملہ جانتا ہے۔ میں رات بارہ بجے یہاں آتا ہوں۔ رضا کارانہ طور پر یہاں مختلف جگہوں پہ کھڑے ہو کر ڈیوٹی کرتا ہوں۔ صبح فجر کی نماز پڑھ کر گھر جاتا ہوں اور پھر سو کر اٹھنے کے بعد ظہر ادا کرکے اپنی دکان کھولتا ہوں۔ اور میرا رب مجھے پھر بھی اتنا ہی رزق عطا کر دیتا ے جتنا میں صبح آٹھ سے رات 12 بجے تک دکان کھول کر کماتا تھا۔ اللہ پاک نے بھائی عبدالعزیز کو میرے لئے فرشتہ بنا کر بھیجا تھا۔ میں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ بھائی جان میں ابھی تک حجر اسود کا بوسہ نہیںلے سکا۔ انہوں نے کہا کہ آپ فکر مند نہ ہوں۔ میں ابھی آپکو بوسہ دلواتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ حجر اسود کی جانب جانے والی قطار میں خود آگے لگ گئے اور مجھے پیچھے لگا لیا۔ اور باآلاخر۔ وہ مبارک گھڑی آ گئی جس کا مجھے شدت سے انتظار تھا۔ بھائی عزیز صاحب نے اپنی باری پر لوگوں کو ایک طرف کر کے مضبوطی سے بازوؤں کا حصار بنایا اور کہا افتخار آگے آؤ اور جتنے چاہے بوسے لے لو۔ سبحان اللّٰہ ۔ میں گنہگار۔۔۔۔۔اور بوسہ حجر اسود اب میں بار بار بوسے لے رہا تھا۔
پھر یہی نہیں عبدالعزیز صاحب نے مجھے شاہی خاندان کے اس بزرگ عربی صاحب سے مصافحہ اور مسح کرایا کہ جو عرصہ 30 سال سے آفیشلی خانہ کعبہ کے مبارک دروازے اور ماتھے پر فجرکی نماز کے وقت عطر لگانے آتے ہیں۔ بھائی عزیز صاحب نے بڑے پیار سے انہیں میرے بارے میں بتایا اور انہوں نے بڑی شفقت سے میرے ہاتھوں پر مسح کیا۔ اور بھائی عبدالعزیز نے پھر مجھے دروازہ مبارک پر ہاتھ لگانے کو کہا اور بعد میں دروازے پر لگے ہوئے تازہ عطر سے میرے سر،ماتھے اور جسم کو مسح کیا۔ میں اس وقت اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہا تھا۔ اور اپنی اس خوش نصیبی پر بڑا ناز کر رہا تھا۔
رات کومیرے گاؤں تلونڈی موسیٰ خاں سے تعلق رکھنے والے دوست احباب جو سعودی عرب کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔ کی فون کالز آنی شروع ہو گئیں۔ جنہیں متعدد ذرائع سے میرے بارے میں پتہ چلا تھا کہ میں عمرہ پر آیا ہوں۔ ان میں ریاض شہر سے قاسم ڈار، عاطف ڈار، ارشد صاحب ڈار، طاہر یامین صاحب، تنویر احمد صاحب، جدہ میں ندیم صاحب، ریاض سے عظمت وقاص، میرے کزنز سمیع اور۔۔۔امریکہ نیو یارک سے اشتیاق چیمہ،فرحان عمر چیمہ کنیڈا ٹورسٹو سے ارشاد احمد چیمہ ، سجاد احمد چیمہ، انگلینڈ سے عمران مرید چیمہ، جاپان سے مصطفیٰ خاور ، منور گھمن، شہزاد احمد ، اعجاز احمد، عرفان رشید، اسپین (ویلنیا) سے اکرام باری گھمن شاہد مصطفیٰ بٹ، آصف چیمہ ،انور چیمہ،طاہر خاور ،طاہر مظفر چیمہ اٹلی سے سہیل مرید ، ، عرفان ڈار، پیرو سے امتیاز احمد چیمہ، پاکستان سے چوھدری افتخار احمد چیمہ، چوھدری محمد فیاض موھل(AC)فیاض احمد چیمہ، چوھدری افضل گورائیہ، چوھدری زاہد فاروق، قاسم چٹھہ اسسٹنٹ ڈائیریکٹر پاک پی ڈبلیو ڈی اسلام آ باد۔ سعید اعوان پریزیڈیٹ پاک انڈیا فورم گوجرانوالہ چےئر مین ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان، حماد چیمہ، جمیل بٹ، عثمان بٹ، علی بٹ، اختر چیمہ، فیصل عزیز انٹر نیشنل اتھیلیٹ، سمیع اللہ ایڈایڈمنسڑیٹر ایشین کالج آف گوجرانوالہ، انور گھمن، یونان سے طارق چیمہ،طارق محمود رحمانی۔قبلہ حافظ اکرام صاحب سرپرست حضرت ابو بکر صدیقؓ اسلامک سینٹر، ملحق سائنس بیس ہائی سکول گوجرانوالہ، جناب طاہر محمود صاحب پرنسپل سائنس بیس ہائی سکول، ساجد محمود مغل صاحب ایڈمنسڑیٹر سائنس بیس ہائی سکول سلطان محمود صاحب وائس پرنسپل ، طاہر علوی صاحب بک شاپ اور باربی کیو ماسٹر، نبیل صاحب سب کے اسسٹنٹ اور دیگر معزز سٹاف آف سائنس بیس سکول کے لاتعداد مبارکبارد کے فون آئے۔
جدہ (بنی مالک ) کے دل جلے:
جدہ بنی مالک میں مقیم پاکستان بھائی۔ اظہر حسین آزادؔ۔۔۔۔۔پرویز (دل جلا) شاہد رشید۔ کو پاکستان سے فون پر میرے عمرہ روانگی کے بارے میں پتہ چلا۔ جس پر انہوں نے جیسے تیسے بھی ممکن ہوا۔ میرا رابطہ ڈھونڈا اور انتہائی محبت اور خلوص سے مجھے فون کیا۔اس وقت میں حرم پاک میں صفا ، مروہ کی سعی کر رہا تھا۔ فرمانے لگے بڑی مشکل سے آپکا نمبر ڈھونڈا ہے۔ اور کل ہم آپ کو لینے کیلئے آ رہے ہیں۔ہماری خواہش ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ وقت ہمارے پاس قیام کریں۔ٹالا کیسے جا سکتا تھا۔ اگلے روز شام کا وقت طے تھا۔ یہ پیارے دوست مجھے لینے کیلئے آ گئے۔ میں نے جدہ جانے کی تیاری کی۔اپنے تمام گھروالوں سے اجازت لی اور ان کے ساتھ جدہ کے لئے روانہ ہوا۔ میں ان سارے پیارے لوگوں کی محبت کا قرض کبھی نہیں اتار سکتا۔دوران سفر خوبصورت باتوں، مسکراہٹوں اور قہقہوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ ان کے فلیٹس لاہور ہوٹل جدہ کے قریب ہیں۔ اظہر حسین صاحب کے فلیٹ میں پہلے گئے۔جہاں اشتیاق بٹ، ریاض مغل، حافظ صاحب، مبشر سے ملاقات ہوئی۔اب اظہر صاحب نے بڑی خاطر مدارت کی۔صبح جمعۃ المبارک تھا۔ ان سب دوستوں کو صبح چھٹی تھی۔ لہٰذا رات گئے تک گپ شپ چلتی رہی۔ پرویز اور شاہد کا اصرار تھا کہ اب آپ ہمارے ساتھ ہمارے فلیٹ پر چلیں۔ اسی اثناء میں ناصر نصیر، راشد نصیر، آصف نصیر کو میری آمد کی اطلاع مل گئی ۔یہ لوگ سمندر پر گئے ہوئے تھے۔ جلدی میں وہاں سے مجھے ملنے کیلئے لوٹ آئے۔ اظہر صاحب کے ڈیرے پر آ کر ملے۔ سب نے بڑی چاہت اور خلوص سے میرا ستقبال کیا ۔جسے میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔ ناصر صاحب کہنے لگے کل آپ نے ہمارے گھر آنا ہے۔ ان سے بھی وعدہ کر لیا۔ اور پھر پرویز اورشاہد کے ساتھ چلا۔ انکے فلیٹ پر آ گیا۔ بڑا صاف ستھرا اور شاندار فلیٹ تھا۔
بیٹھے تو انہوں نے کہا بھائی جان ہم نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے لئے پائے تیار کیے ہیں۔ تو اس طرح رات کے تین بجے کے قریب ہم تینوں پائے کھا رہے تھے۔ پرویز اور شاہد کہنے لگے۔ بھائی جان یہاں دنیا کی ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ بس اگر کمی ہے تو یہ کہ ہم اپنے گھر والوں اپنے پیاروں سے دور ہیں۔ ہم یہاں بیٹھے سب کی خیریت کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ پھر پرویز آہ بھرتے اٹھا اور فریزر سے آئیس کریم لے آیا۔ کہنے لگا پایوں کی حدت کم کرنے کے لئے اسے ضرور کھائیں۔ڈھیر ساری گپ شپ ہوتی رہی کہ فجر کی اذان کی آواز کانوں میں گونجی جس پر ہم قریبی مسجد میں نماز فجر ادا کرنے چلے گئے۔
واپسی پر آنکھیں نیند کی کمی کی وجہ سے بوجھل ہو رہی تھیں۔ آتے ہی ہم سو گئے۔ کوئی گیارہ بجے دن تک ہم سوتے رہے پھر اشتیاق بٹ اور ریاض مغل بھی اسی ڈیرے پر آ گئے۔ شاہد صاحب پھر چنے، حلوہ، نان اور چائے کا ناشتہ لے کر آ گئے۔ مل کر سب نے ناشتہ کیا۔ اظہر صاحب کنٹریکٹر ہیں۔ انکو سائیٹ پر کام تھا۔ فون پر کہنے لگے کہ میں اپنے ور کرز کو کام بتا کر جلد آپکو جوائن کرلوں گا۔ پھر ہم سب جمعہ کی تیاری کرنے لگے۔ اشتیاق صاحب نے اپنی شلوار قمیض مجھے پہننے کیلئے دی۔وہ جب پہنی تو بالکل ایسے لگ رہا تھا جیسے آپ نے دیکھا ہو گا کھیتوں میں اکثر پرندوں کو بھگانے کیلئے چھڑی کو کپڑے پہناد یتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن ان سب پیاروں کا خلوص کیسے ٹھکرایا جا سکتا تھا۔
جدہ میں واقع یہ مسجد بڑی خوبصورت تھی۔مسجد میں بہت رش تھا۔پہلے عربی میں بیان پھر خطبہ۔ یہاں کوئی فرقہ واریت کی بات نہیں کرتا۔ ہر مسجد کے خطیب، موذن، امام حکومت سے تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں پاکستان میں آج بھی دیہاتوں اور قصبوں میں بد قسمتی سے اکثر مساجد کے امام بغیر تنخواہ کام کرتے ہیں۔ گویا مولوی صاحبان کو پیٹ نہیں لگا یا ان کے بال بچے نہیں ہیں۔ مجبوراً جمعرات کو چندہ ، جمعۃ المبارک کو جھولی پھیرنا، اور عید پر قربانی کی کچھ کھالیں انکا مقدر ہیں۔
ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے کچھ دم ، تعویزوں کا سہارا لیتا ہے تو کسی نے ساتھ مطب بنا لیا ہے۔جمعۃ المبارک کی نماز ادا کر کے مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا بڑی تعداد میں سوڈانی افراد نے مسجد سے باہر بازار لگایا ہوا تھا۔ جو ارزاں داموں میں مختلف اشیاء بیچ رہے تھے۔ جن میں فروٹ، تسبیاں،ٹوپیاں ،کپڑے، شوز شامل تھے۔ اب اشتیاق بٹ کی گاڑی میں مجھے لاہور ہوٹل لے جایا گیا، اور پھر ایک بڑے کھانے کا آرڈر دیا گیا۔ یااللہ خیر ۔کھانوں پہ کھانے۔۔۔۔۔
پھر ناصر نصیر کا فون آ گیا۔ جلد میری شاپ پہ پہنچیں۔ ان کی جدہ کے امیر علاقے عزیزیہ میں باربر شاپ ہے۔ یہ دوست مجھے وہاں لے گئے۔ تینوں بھائی ناصر،راشد، آصف دکان پر تھے۔ بڑی خوشی سے ملے ،منع کرنے کے باوجود جوس، کولا، انرجی ڈرنک لے آئے۔میں نے راشد سے کہا، راشد تم نے میری شیو سے اپنا ہاتھ سیدھا کیا تھا اور مجھے لہو لہان ۔ سارے ہنسنے لگے۔آج وہ بہترین اور ماسٹر ہئیر ڈریسر ہے۔ ناصر صاحب نے انکشاف کیا کہ خالد مغل، یونس مغل یہاں قریب ہی رہتے ہیں۔ میں نے کہا اچھا مجھے انکا نمبر دیجئے۔ میں بات کرتا ہوں۔یہاں سے رخصتی پر نا صر نصیر صاحب نے مجھے خوشبوؤں کے بنڈلوں سے لاد دیا۔ (انا عربی) میں نے خالد صاحب کو فون کیا۔ خالد صاحب کو میں نے مزاقاً کہا ،یار میں عمرہ پر آیا ہوں۔ کام کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہوں۔ اس وقت بھی جدہ کی ایک سڑک پر مزدوری کی تلاش میں کھڑا ہوا ہوں۔ اتنا وقت ہو گیا ہے۔ مجھے کوئی کام پر لے کر بھی نہیں گیا۔ بڑی مشکل سے تمہارا نمبر کہیں سے ملا۔ سوچا کہ ٹرائی کر کے دیکھتا ہوں۔ خالد واقعی سیرس اور پریشان ہو گیا۔ کہنے لگا مجھے جگہ بتاؤ میں ابھی پہنچ رہا ہوں۔ سارے دوست ہنسنے لگے۔ خالد پانچ منٹ میں اپنی مرسیڈیز پر وہاں پہنچ گیا۔ خالد اور میں غریبی کے دنوں کے دوست ہیں۔
خالد نے آ کر سب دوستوں سے گزارش کی کہ آپکی مہربانی ہو گی ۔افتخار صاحب کو میرے پاس چھوڑ دیں۔ اب سارے دوست ہکا بکا میرا منہ تکنے لگے۔ اور اداس ہو گئے۔ میں نے خالد صاحب سے کہا جب تک یہ دوست مجھے اجازت نہیں دیں گے میں آپکے ساتھ نہیں جا سکتا۔ اس پر سارے دوست کہنے لگے ایک شرط پر ہم آپ کو جانے دیں گے۔ وہ یہ کہ ایک حاجی مشتاق صاحب، بھائی مقبول ڈوگر اور بھائی حسن ندیم صاحب کو آپ کے آنے کی اطلاع مل چکی ہے۔ وہ ہمارے ڈیرے پر آنے والے ہیں۔ میں نے اور خالد نے بیک وقت کہا بالکل ٹھیک ہے۔ ہم ان سے ملیں گے۔ گپ شپ لگائیں گے، پھر آپکی اجازت سے خالد صاحب کے ساتھ میں چلا جاؤں گا۔اس طرح ہم سب قافلے کی شکل میں جدہ بنی مالک واپس شاہد اور پرویز کے ڈیرے پر آ گئے۔ جہاں تھوڑی دیر بعد مذکورہ دوست پہنچ گئے۔ پھر کافی وقت گپ شپ میں گزرا۔ پھر خالد صاحب نے سب کی طرف اجازت کیلئے دیکھا۔ اور سب نے اداسی سے مجھے الوداع کہتے ہوئے دوبارہ شرط رکھی کہ اگر آپ مکہ یا مدینہ چلے جاتے ہیں تب بھی واپسی پر پھر ہم آپکو لینے کیلئے ضرور آئیں گے۔ پھر ان سے ہامی بھر کے خالد مجھے اپنے ساتھ لے آیا۔ خالد صاحب کا گھر شاہراہ تہلیہ پر واقع ہے۔ آٹھ منزلہ اس ڈیسنٹ بلڈنگ کے ٹاپ فلور پر۔ خالد صاحب راستے میں کہنے لگے کہ آجکل بیوی بچے پاکستان گئے ہوئے ہیں۔ اس لئے کھانا راستے میں واقع ریسٹورنٹ میں کھا لیتے ہیں۔ اس طرح ایک عربی ریسٹورنٹ میں جہاں لکھا ہوا تھا۔ مطعم،لحم، طعام سے ہے جسے کھانا کہتے ہیں۔لحم گوشت کو کہتے ہیں۔ یہ ایک نہایت عمدہ ریسٹورنٹ تھا۔ خالد صاحب نے وہاں کاؤنٹر سے اپنی پسند کے بکرے کا گوشت پہلے وزن کروایا، بعد میں انکو سمجھا کے آئے ۔یہاں کرسیاں میز لگے ہوئے تھے۔ ساتھ میں کمرے بھی تھے، خالد صاحب کہنے لگے کمرے میں بیٹھتے ہیں۔ عمدہ قالین بچھے ہوئے تھے۔ سائیڈوں پہ تکیے لگے تھے یہاں ڈائنگ ٹیبل نہیں رکھتے تھے۔ ہم دونوں دوست قالین پر بیٹھ گئے۔ یہ گوشت کی خالص ڈش تھی۔ اسکو خاص پتھروں پہ بنایا جاتا ہے۔ ہم ماضی حال اور مستقبل کے بارے میں گپ شپ لگاتے رہے ۔ کھانے میں عربی روٹی ، چاول، پتھر پہ بنا گوشت۔ لہسن کی ساسز اور کھجوریں تھیں۔ واقعی بڑا لذیز گوشت بنا تھا۔ وہاں سے اٹھے، پھر ایک کافی شاپ بارنیز پہ بیٹھ گئے۔ بارنیز ایک انٹر نیشنل کافی شاپ ہے۔ کافی بنانا ان پر ختم ہے، پھر اٹھے اور شاہراہ تہلیہ پہ واقع خالد صاحب کی رہائش گاہ پر آ گئے۔جہاں ان کے مینیجر ظہیر بابر صاحب ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ خاصی گپ شپ ہوئی۔ پھر فجر کی نماز مسجد میں ادا کر کے واپس آ کر سو گئے۔
کوئی پانچ گھنٹے ہم آرام سے سوتے رہے۔ پھر خالد صاحب نے مجھے اٹھایا اور کہا کہ نہا دھو کر فریش ہو جائیں۔ اسی بلڈنگ کے گراؤنڈ پر انکا آفس ہے۔ خالد مغل، یونس مغل صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں۔ سعودی عرب میں انکی ذاتی کنسٹرکشن کمپنی ہے۔ اسکے علاوہ یہ امپورٹ ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں۔دیگر ان کے کئی ریسٹورنٹ اور شاپس بھی ہیں۔ جو انہوں نے کنٹریکٹ پر دے رکھی ہیں۔ نیچے آفس میں تھوڑی دیر بیٹھے، چائے پی، یونس صاحب بھی آ گئے۔ گپ شپ بھی چلتی رہی، پھر اس دن کے حوالے سے کاموں کا جائزہ لیا گیا۔ اور مختلف ملازمین کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئیں تھیں۔ دو گھنٹے بعد خالد صاحب نے بابر صاحب کو اشارہ کرکے بتایا کہ انکا پیٹ نیچے کی طرف جارہا ہے۔ اس طرح سے یہ مہربان مجھے لے کر کبابش ریسٹورنٹ پر چلے گئے۔ جہاں نان چنے اور حلیم کے ساتھ ناشتہ کیا گیا۔
پھر وہاں سے دوبارہ آفس واپس آئے۔ پھر وہاں سے تھوڑی دیر بعد دوبارہ سے، خالد صاحب کو اپنی ایک سائیٹ کا وزٹ بھی کرنا تھا ۔یہ KFC ریسٹورنٹ کی ایک بلڈنگ تیار کر رہے تھے۔ وہاں تھوڑی دیر رک کر خالد صاحب نے میسنز، کارپینٹرز کو کام کے بارے میں سمجھایا، اور پھر وہاں سے یہ مہربان مجھے سمندر پر لے گئے۔ ساحل سمندر پر بڑا دل لبھانے والا ماحول تھا۔ کافی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی لوگ ساحل کی ریت پر اپنے پیروں سے کچھ لکھ رہے تھے۔ جو کہ سلیٹ، سلیٹی ،قلم دوات اور نوٹ بک پنسل سے نہیں لکھا جاتا۔۔۔۔۔خوب لطف اندوز ہوئے۔ وقت کو یادوں میں سمیٹنے کیلئے تصویریں بنائی گئیں۔ مرسیڈیز پھر سے سمندر کے بالکل ساتھ ساتھ چلنے والی روڈ پر رواں دواں تھی۔پھر تھوڑا آگے جا کر گاڑی روک دی گئی۔ ایک نہایت خوبصورت مسجد جو سمندر کے اندر تیار کی گئی تھی وہاں ہم نے نماز عصر ادا کی پھر آگے چلے، آج پھر دل منتظر تھا ۔۔۔۔کہ ساحل کی شرارتی موجیں مجھے بھگوئیں۔ لیکن یہ سب دل میں ہی تھا کہ ایک خوبصورت پوائنٹ پر خالد صاحب نے گاڑی روکی۔ بابر صاحب کی نواز شریف کے ساتھ بڑی مماثلت ہے۔ بہت خوبصورت طبیعت کے مالک ہیں۔ کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ خالد صاحب نے مجھے پتھروں پر کھڑا ہونے کو کہا ۔۔۔۔تصویر بنانے میں کچھ تاخیر سے کام لے رہے تھے ،اصل وجہ کوئی اور تھی۔۔۔۔۔اور پھر وہی ہوا۔۔۔۔۔ ایک تیز موج بڑی طاقت کے ساتھ آئی اور میرے کپڑے بھگو کر چلی گئی جس کی وجہ سے جیب میں پڑی کچھ کرنسی، پاسپورٹ اور موبائل فون مکمل طور پر بھیگ چکے تھے۔ موبائل فون نے کام کرنا چھوڑ دیا ۔ اس طرح عارضی طور پر میرا رابطہ سب سے منقطع ہو گیا۔ گیلے کپڑوں کو سوکھنے میں اتنا ہی وقت لگ رہا تھا جتنا پچھلی یادوں کو بھلانے میں۔۔۔۔درکار ہوتا ہے۔ واپسی پر یہ پیارے مجھے راستے میں واقع البیک ریسٹورنٹ پر لے آئے جو سعودیہ میں بہت پاپولر ہے۔وہاں پر مہربانوں نے فرائیڈ فش ، فرائیڈ جمبو پرانز ،فرنچ فرائیڈ، چکن نگٹس باسکٹس اور چکن برگر منگوالئے۔البیک واقعی (Taste) ماسٹر ہے۔ گھر واپس آئے تو تھوڑی دیر بعد جاوید صاحب ارم صاحب اور رفیع صاحب ملنے کیلئے آ گئے۔ پھر ان سب دوستوں سے خاصی گپ شپ ہوئی۔ پھر رات کو یہ پیارے مجھے شیش کباب فاسٹ فوڈ پر لے آئے۔ فلپائنی ملازم نے بڑے عمدہ قسم کے بیف، سلاد سینڈوچ تیار کیے۔ میں نے خصوصی طور پر اس کو زیادہ سپائسی بنوایا اور وینگر میں ڈوبی تین ہری مرچیں ڈلوا لیں اور پھر See See کرتا رہا۔ سپایئس کو آئیس نے دھیرے دھیرے ٹھنڈا کیا۔۔۔۔۔ان دوستوں نے کھلا کھلا کے مجھے صحت مند بنا دیا ہے۔ دوسرے دن یہ پھر مجھے سمندر کے ایک کارنر پر واقع عربی ریسٹورنٹ پر لے گئے۔ جہاں تازہ مچھلی فرائی کی جا رہی تھی۔ کہ گوجرانوالہ معراجدین مچھلی والوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ بہترین مصالحوں سے تیار کی گئی مچھلی دل و دماغ کوفرحت بخش رہی تھی۔ ساتھ میں کچھ کری، سفید چاول۔عربی روٹی اور سلاد میں سبز رنگ کی چارے جیسی جڑی بوٹی تھی۔جدہ سے باہر دور انڈسٹریل ایریا کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ راستے میں ریگستان بھی نظر آئے، اور کچھ اونٹوں کے فارم بھی۔ کئی لوگ اونٹنی کا تازہ دودھ یہاں سے خرید کر لے جاتے ہیں۔ اونٹنی کے دودھ میں بھی شفاء ہے۔ خصوصاً یہ جوڑوں کے درد کیلئے بڑی موثر دوا کا کام کرتا ہے۔موبائل فون جو سمندر کے پانی میں بھیگنے کی وجہ سے بند پڑا تھا۔ خالد صاحب اپنے کزن کے پاس لے گئے۔ جن کی جدہ مارکیٹ میں دکان تھی۔ انہوں نے اس کی فارمیٹنگ کی اور اس نے پھر کام کرنا شروع کر دیا۔ اب بھائیوں کے فون مستقل آنے لگے۔ کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ آپ نے تو پوری فیملی کو اداس کر دیا ہے اب جناب واپس خود آ جاتے ہیں یا ہم لینے کیلئے آئیں کیونکہ مدینہ شریف بھی روانہ ہونا ہے۔ خالد صاحب کہنے لگے میرا دل تو آپکو بھیجنے کو نہیں چاہتا لیکن میں انکار نہیں کر سکتا۔ چلیں ذرا آپکو PANDA سٹور کی سیر کروائیں۔ اور پھر ضد سے انہوں نے مجھے شاپنگ کروائی اور بیش قیمت تحائف دیکر جدہ بائی پاس پر لے گئے جہاں سے مجھے مکہ کیلئے ایک ٹیکسی میں بٹھایا۔اور پھر بڑی فکر مندی سے ڈرائیور جو کہ عربی تھا اسے سمجھاتے رہے۔شام ہو رہی تھی ماحول میں بھی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ پھر جب ہماری گاڑی روانہ ہوئی تب بھی خالد صاحب دیر تک پیچھے میری گاڑی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اور ہاتھ ہلارہے تھے۔
واپس گھر پہنچا اپنی فیملی کو سارا احوال سنایا۔ رات کا کھانا اکٹھے کھایا حافظ امتیاز بھائی خاص طور پر (مندی) (بکرے کا سٹیم گوشت اور چاول) ، پتھر پہ بنا چکن اور فرائیڈ فش لے آئے تھے۔کھانے سے فراغت کے بعد دل پھر یہی چاہ رہا تھا کہ حرم میں حاضری ہو، کیونکہ دو تین دن غیر حاضری ہو چکی تھی ۔ کائنات، عائشہ، حسنات، عمر چاروں کا اصرار تھا کہ وہ بھی عمرہ کرنے جائیں گے ۔ننھے منے بچوں کی دعائیں اللہ اور قریب سے سنتے ہیں۔ پھر ہم مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر اللہ کے گھر روانہ ہو گئے۔ یہ بچے جب بھی حرم پاک گئے بڑے احترام کے ساتھ چلتے تھے۔ بڑے مؤدب ہو کر عبادت کرتے تھے۔ اونچی آواز میں وہاں بات نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو انکی یہ ادا ضرور پسند آئی ہو گی کہ یہ غلاف کعبہ سے ایسے چمٹ جاتے تھے جیسے محبت میں بچے اپنے والدین کے گلے لگ جاتے ہیں۔
حرم پاک میں افطاری کا واقعہ:
ایک روز جب نماز مغرب سے تھوڑا پہلے میں حسنات، کائنات اور عائشہ جب حرم پاک میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دستر خوان بچھے ہوئے ہیں۔ ان پر عمدہ قسم کی کھجوریں ،آب زم زم اور قہوہ رکھا ہوا ہے۔ چونکہ ہم رمضان شریف سے پہلے گئے تھے تو یہ بالکل ذہن میں نہیں آیا کہ یہ جن لوگوں نے نفلی روزے رکھے ہوئے ہیں ۔انکی افطاری کا اہتمام ہے۔ ہم صرف عربوں کی میزبانی کو دیکھ دیکھ کر’’ سبحان اللّٰہ سبحان اللّٰہ ‘‘کہتے ہوئے بیٹھ گئے اور کھجوریں قہوہ اور زم زم پینے لگے لیکن ہمیں کسی نے منع نہیں کیا۔ لیکن جب دائیں بائیں گردن گھمائی تو ہمارے علاوہ کوئی بھی نہیں کھا رہا تھا۔ تب ہم نے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ ہم غلطی پر ہیں پھر ہم جم کر وہیں بیٹھے رہے لیکن اب چونکہ ہمیں احساس ہو گیا تھا اس لئے ہم نے کھانا پینا ترک کر دیا۔ اور پھر عین افطاری کے وقت لوگوں کے ساتھ مل کر تیز رفتاری سے افطاری کی۔

قمر صاحب کی دعوت:
نام بھی قمر، صورت بھی اللہ نے قمر سی بنائی ہے۔ چھوٹے بھائی امتیاز صاحب کے جگری دوست ہیں، بمعہ بچوں کے جدہ میں مقیم ہیں۔ انکا جدہ میں واقع اہم بزنس، مارکیٹ میںفلیکس اورنیون سائین بنانے کا ذاتی کاروبار ہے۔ بڑے درد دل والے انسان ہیں۔ بڑا دھیما لہجہ ہے۔ بھابھی بھی بہت سلیقہ شعار خاتون ہیں۔ انہوں نے ہوٹل مہران عزیز یہ (جدہ) میں ہماری دعوت کی۔ بڑی پر خلوص دعوت تھی۔ بڑی چاہت اور عزت و احترام سے ساری فیملی کو مہران ریسٹورنٹ لے جایا گیا۔ ایڈوانس ریزیرویشن کروائی گئی تھی۔ پھر انواع و اقسام کا من و سلویٰ ٹیبلز پر سجا دیا گیا۔ اس کے باوجود کہ ٹیبل مین سروس کے لئے موجود تھے پھر بھی وہ خود اور بھابھی ہماری خدمت کرتے رہے۔ کھانے کے بعد دیر تک وہیں بیٹھے رہے گپ شپ ہوتی رہی اور بعد میں ہماری ساری فیملی کو انہوں نے قیمتی تحفوں سے نوازا۔ جن میں جائے نماز، چادریں اور سوٹ تھے۔
مدینہ پاک کا سفر:
’’مدینے کا سفر ہے۔۔۔۔۔اور میں۔۔۔۔۔۔نمدیدہ ،نمدیدہ ‘‘
ساری دنیا میں۔۔۔۔جہاں مرضی گھوم پھر لو۔
اس کا کوئی بدل نہیں۔۔۔۔۔۔
نہیں ہے کوئی ایسا سفر
نہیں ہے کہیں بھی
ایسا پیارا منظر
اے اللہ ۔۔۔۔۔کل عالم کو
اپنا گھر دکھلا دے
پیارے نبیؐ کا صدقہ
مدینہ نصیب فرما دے
حبیب خداؐ سے ملا دے
مدینے کے سفر پر ہم روانہ ہو رہے ہیں۔۔۔۔عصر کی نماز پڑھی ہے تیاری ہو رہی ہے ایک بڑی آرام دہ ہائی ایس ائیر کنڈیشنئر پیارے بھائیو ں نے بک کروا ئی ہے۔ ہم نے گاڑی کے ٹرنک میں سامان رکھنا شروع کر دیا ہے۔ایک باریش عربی بزرگ اس کے ڈرائیور ہیں۔ سلام دعا ہوئی ۔ بڑے اچھے اخلاق والے ہیں، گاڑی چل پڑی ۔ مدینہ یہاں سے تقریباً چار سو کلو میٹر ہے۔ بھائی امتیاز گھر سے آتے وقت کجھوریں بھی لے آئے تھے۔ ان بزرگ کے پاس تھرموس میں گرما گرم قہوہ تھا۔ میں قہوہ پینے لگا۔ بزرگ ہمیں ساتھ ساتھ گائیڈ بھی کر رہے ہیں۔ جدہ کے بعد ایک شہر عسفان آیا ہے بزرگ ہمیں چلتی گاڑی میں اس طرف اشارہ کر کے بتا رہے ہیں کہ جب پیارے نبیؐ مکہ سے مدینہ جا رہے تھے تو راستے میں اس وقت پانی کی بڑی قلت تھی پھر اللہ پاک نے پیارے نبیؐ کے صدقے یہاں بھی چشمہ جاری کر دیا۔ اور پھر وہاں کے قبیلے نے کنواں بنا لیا۔ وہ عربی میں ہمیں بتا رہے تھے ۔ امتیاز بھائی ہمیں ٹرانسلیٹ کر رہے تھے ۔یہاں عرب میں جو مشہور قبیلے ہیں ،ان میں زاہرانی،غبتی، غاعدی، مشری، القہتانی اور قریشی ہیں۔یہاںشادی کا رواج کچھ اس طرح ہے کہ لڑکی والے لڑکے سے پیسے لیتے ہیں جو کہ 30 ہزار ریال سے لیکر ایک لاکھ یا اس سے زائد ہو سکتے ہیں۔ جوکہ بعد میں لڑکی کے لئے مختلف اشیاء ضرورت لے کر اسکو دے دیتے ہیں۔ الباھا، تبوک اور طائف میں زراعت کا کچھ کام ہے جس میں چاول گندم، سبزیاں خوبانیاں وغیرہ اگاتے ہیں۔کھجور کے درخت تو پورے ملک میں ہیں۔ الخوف، تبوک سے زیادہ کھجور مارکیٹ میں بکنے کے لئے آتی ہیں جبکہ مکہ پاک اور مدینہ پاک سے کھجور لینا زیادہ باعث تبرک ہے۔ کھجور کو مترس کہتے ہیں لمبے سفر میں عربی کھجور اور قہوہ ضرور رکھتے ہیں۔ اللہ نے پیارے نبیؐ کے صدقے اس خطے کو اتنا مالا مال کیا ہے ۔ امتیاز بھائی گاڑی میں سے ہی مجھے غیر آباد زمین کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے ہیں جہاں زمین کی تہہ پر تیل نظر آ رہاہے۔ گورنمنٹ کی طرف سے موبائل فونز پر اکثر یہ پیغام آتا ہے کہ اس عظیم سر زمین کے لئے دعا کریں جو کئی رنگوں ،نسلوں ،قبیلوں اور ملکوں کو روزی کھلانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ پورے ملک میں کہیں بھی ٹول ٹیکس نہیں ہے۔ ہر روڈ پر چند کلو میٹر کے بعد پولیس پوسٹیں بنی ہوئی ہیں۔ کبھی کبھار وہ کسی گاڑی کو روک کر چیک بھی کرتے ہیں۔ راستے میں واقع ایک بڑے پٹرول پمپ پر گاڑی روکی گئی جہاں ریسٹورنٹ ، مسجد، بچوں کے لئے تفریح اور دیگر سہولیات میسر ہیں۔ بچے کھیلنے لگ گئے ہم نے باجماعت نماز ادا کی اور بعد میں ریسٹورنٹ پر چلے گئے۔ وہاں سے پسند کی کچھ ڈشز اور فرائیڈ چاول اور بروسٹ چکن منگوائے گئے۔ ساتھ میں ٹھنڈا پ اور بعد میں گرم اپ ۔گاڑی پھر سے مقدس سفر کیلئے رواں دواں تھی۔ وقفے وقفے سے بھائی جان طارق صاحب کا فون آ رہا تھا کہ اب کہاں پہنچے ہیں اب کہاں۔ سفر کیسا گزر رہا ہے۔ میں اور امتیاز صاحب انہیں تفصیل سے آگاہ کر رہے تھے۔
اب ہم ارض مقدس ، عافیت کی جگہ، ساری کائنات کے سپریم پیس میکر کے پر امن شہر مدینہ پاک پہنچ گئے تھے بھائی جان فون پر راہنمائی کر رہے تھے انہوں نے مکتبہ عبدالعزیز کے بالکل ساتھ اور حرم پاک سے چند قدم کے فاصلے پر ایک بڑے ہوٹل، الھدیٰ منازلی کے تین بڑے کمرے جو دسویں فلور پر واقع تھے بک کروائے ہوئے تھے اور خود ہمیں ریسو کرنے کے لئے ہوٹل سے باہر کھڑے بیتابی سے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ملک الیاس صاحب کے کزن اور انکا بیٹا بھی ہماری آمد کے منتظر تھے بڑی دلی خوشی ہوئی یہ پیارے عزیز ہماری تھکن کے پیش نظر گھر سے چکن بریانی اور فروٹ ڈھیر سارے برتن لے آئے تاکہ ہم آرام سے کھانا کھا لیں۔ہوٹل کے ملازمین ہمارا سامان کمروں تک خود ہی پہنچا گئے تھے۔ معمولات سے فارغ ہو کر ہم بے چینی سے پیارے نبی ؐ کے قدموں کی پاک خاک والی ارض مقدس پر اپنی جبیں لگانے کے منتظر آنکھوں میںنمی لیے، قدم آہستہ آہستہ اٹھاتے باادب حرم پاک، مسجدنبوی کی جانب بڑھنے لگے۔ دل میں لاکھ وسوسے ڈر، ندامت اور شرمندگی کہ ہم گنہگاروں کیلئے ،ہماری بخشش کے لئے ہمیں دوزخ کی آگ سے بچانے کے لئے ہمارے پیارے آقائے دو جہاںؐ نے کیا کیا قربانیاں نہیں کیں اور ایک ہم کہ دل و جسم کالے، گناہ کی لذت میں لدے صبح و شام غلطیوں اور گناہوں کیلئے آمادہ و تیار اور مختصر سی زیست میں ہم جھوٹی اناؤں کے ٹھیکیدار اپنے آپ کو مخلوقات سے اشرف سمجھتے ہیں اور بڑے فخر سے مَیں مَیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔اور ایسی ’’تو تو‘‘ اور ’’میں میں ‘‘ میں زندگی ضائع کر دیتے ہیں۔حالانکہ ’’میں‘‘ کو ہم ہر سال عیدالضحیٰ پر چھری بھی پھیرتے ہیں۔ لیکن ہم کب چلتے ہیں اپنے پیارے آقا کے نقش قدم پر۔ مختصراً یہ کہ اللہ پاک رحیمی، کریمی اور معاف کر دینے والی صفت اور اپنے پیارے حبیبؐ کے صدقے میرے اور ساری امت کے گناہ معاف فرما دے ۔ آمین۔ ثم آمین۔
آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت اور اللہ کی رحمت کے آثار مسجد نبوی کے مینار نظر آ رہے تھے۔ اتنا روح پرور منظر نہ دیکھا نہ کہیں ہے لبوں پر درود شریف کا ورد جاری تھا اور آنکھوں میں ندامت کے آنسو۔سانس کی آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔ بے اختیار بایاں ہاتھ دل کی جانب گیا اور دایاں ہاتھ باادب ماتھے پر دنیا کی عظیم ترین ہستی کو سیلوٹ ،سلام کرنے کیلئے ۔کہ جس کے صدقے یہ دنیا بنائی گئی ۔جو وجہ کائنات ہے اور جس کی وجہ سے ہم ساری مخلوقات ہیں آج۔
دیدار دربار مصطفی ؐ سے آنکھوں کو بنیائی ملی
جس نے دیدار مصطفی کیا اسے سمجھو خدائی ملی
کملی والے پیارے آقا سے محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ جمعرات کا مبارک روز تھا۔ روضہ رسولؐ کے سامنے میں میرے بھائی اور حسنات ہاتھ باندھے کھڑے رو رہے تھے ۔پولیس والے اتنی دیر ایک جگہ پر کھڑا نہیں رہنے دیتے روضے کی جالیاں آنکھوں کے سامنے تھیں اور اس سے آگے کھڑے ’’شر طے‘‘۔ جالی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے۔ بس جالیوں سے جھانک کر ہی آنکھوں کو بینائی مل جاتی ہے۔ جتنا ہو سکا نظارہ کیا سبحان اللّٰہ قارئین کرام اللہ تعا لیٰ آپکو جلد از جلد روضہ اقدس کی زیارت نصیب فرمائے۔ میرے قلم اورزبان میں سکت ہی نہیں کہ بیان کر سکوں ۔ پھر نماز و نوافل ادا کرنے کے بعد مسجد نبویؐ کی زیارت کی۔ آب زم زم پیا۔ دل کی تسکین کا عالم بیان نہیں کر سکتا آپ کو دنیا کی پریشانیاں بھول جاتی ہیں۔ حضورؐ مسجد نبویؐ کے جس حصے میں تشریف فرمایاکرتے تھے اس کی زیارت کی۔ ہزاروں دعاؤں کے بعد رات گئے واپس ہوٹل پہنچے۔ مدینے کی گلیوں میں گھومنے کا لطف دل میں باقی تھا ۔ بھائی امتیاز اور بچوں کو ساتھ لیکر دل کی راحت کا ساماں کرتا رہا۔ پھر تھوڑی دیر بعد واپس آ گئے۔ پھر فجر کی نماز کیلئے تیاری کی اور پھر جا کر روضہ مقدس کی زیارت شروع کر دی۔ قرآن پاک کی تلاوت اور باجماعت نماز فجر پڑھی۔ پھر تمام دوستوں ،عزیزوں، رشتہ داروں اور پوری قوم کے لئے دعائیں کیں۔ اپنے گناہوں کے بوجھ کو دعاؤں سے اتارا اور پھر میں ،بھائی امتیاز اور حسنات جنت البقیع کی زیارت کیلئے آگے بڑھے۔ اس کے مرکزی دروازے سے داخل ہوئے یہاں حد نگاہ تک قبریں ہی قبریں تھیں جن میں بہت سے اصحاب رسول ؐ کی قبریں بھی ہیں لیکن کسی کے نام کی تختی کسی قبر پر نہیں لگی ہوئی۔ایک بڑا سا بورڈ جس پر اردو عربی میں حضورؐ کے فرمودات لکھے تھے ۔ زائرین بڑی توجہ سے پڑھ رہے تھے۔ا ن پر کچھ ایسے تحریر تھا ۔ ان قبروں میں پڑے لوگ آپکی دعاؤں کے طلبگار ہیں۔ یہ آپکی حاجت روائی نہیں کر سکتے۔ بلکہ آپ یوں دعا فرمائیں کہ یا اللہ ان لوگوں کے صدقے ہمیں بھی عافیت عطا فرما۔ اور عذاب قبر سے محفوظ فرما۔
کچھ قبریں تازہ کھو دی گئیں تھیں زیارت اور دعا سے فارغ ہو کر ایک کار اسٹینڈ کی جانب آئے ایک کافی شاپ سے امتیاز بھائی بسکٹ ،پانی اور چائے لئے آئے۔پھر ایک گاڑی والے عربی سے زیارات کیلئے بات کی اور اسی گاڑی میں روانہ ہوئے۔ صبح کا سہانا منظر، شہر مدینہ امن کا شہر۔۔۔۔۔گاڑی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کچھ بلندی کی جانب جانے لگی۔ اب ہمارے سامنے احد کے پہاڑ نظر آنے لگے۔وہاں ایک مقام پر گاڑی روک کر نیچے اترے اور زیارات کیں! دعا مانگی پھر گاڑی چلی پھر دوسری جگہ خندق کے پہاڑ پر گاڑی روکی گئی پھر مسجد خندق کی بیرونی زیارت کی۔ مسجد خندق کو کسی تعمیری یا دیگر وجوہ کی بنیاد پر بند کیا گیا تھا۔ پھر مسجد قباء کی زیارت کی اور نوافل ادا کیے۔صبح ۱۱ بجے تک ہم زیارات سے واپس آ گئے۔ پھر تھوڑی سی دیر میں بھائی جان طارق اور تمام اہل خانہ سے مل کر پائے، چنے حلوہ اور دیگر نعمت خداوندی کھائیں اور تھوڑے آرام کے بعد حرم پاک میں جمعۃالمبارک کی ادائیگی کیلئے سب نے تیاری شروع کر دی۔ والدہ صاحبہ اور بھابھیوں کو خواتین کیلئے علیحدہ عبادت والی جگہ پر چھوڑا اور جمعتہ المبارک و نوافل و تلاوت کی ادائیگی کی اور پھر عصر اور مغرب کی نمازیں ادا کرنے کے بعد ہوٹل کی جانب چلے۔
آج مدینہ پاک میں ہمارے میزبان کی جانب سے انکے گھر میں ڈنر تھا۔ ہوٹل سے افراد خانہ تیار ہو کر اپنے پیارے میزبانوں کی راہنمائی میں ان کے گھر چلے۔ ان خوبصورت رحمت کی روشنی والی سڑکوں پر گاڑیاں مختلف بازاروں، مارکیٹوں اور پلازوں کے پاس سے گزرتی ہوئی ہمارے میزبان کے گھر پہنچیں۔ جنہوں نے بڑی چاہ اور محبت سے ہمارے طعام کا بندوبست کیا تھا۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی افراد خانہ کے ساتھ من و سلویٰ جیسی خوشبوؤں نے بھی ہمارا استقبال کیا۔ نہایت سلیقے سے دسترخوان سجایا گیا تھا۔ فلیٹ کی صفائی میزبانوں کی سلیقہ شعاری کا ثبوت پیش کر رہی تھی۔پھر انواع اقسام کے لذیز کھانوں سے تھوڑی سی دیر میں دستر خوان سجا دیا گیا اور پھر ہم سب مل کر ٹھیک اسی طرح کھانوں پر اپنے ہاتھ صاف کرنے لگے جیسے اس گھر کو صاف ستھرا رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی۔ کھانا، بعد میں فروٹنگ، چائے، گپ شپ ،محفل میںعبداللہ (بھتیجا) خوبصورت کھیلوں سے سب کی توجہ کا مرکز رہااور پھر ہمیںتحفوں سے نوازا گیا ۔اور پھر ہمارا قافلہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ واپس آ کر سب آرام کرنے لگے۔ وقت کی قلت حائل ہو رہی تھی۔اگلے دن عصر کے بعد ہمیں واپس مکہ روانہ ہونا تھا اور بھائی طارق صاحب اور ہماری فیملی نے مدینہ سے ریاض۔ مدینہ پاک اور روضہ رسولؐ سے جدائی کا غم۔۔۔۔ہمیں سہنا تھا۔ اپنوں سے بچھڑنا تھا غرضیکہ جوں جوں وقت نزدیک آ رہا تھا اداسی اور غم کے سائے بڑھ رہے تھے۔ پھر آخر کار روتے روتے سارے اہل خانہ نے روضہ رسول ؐ پر حاضری دی اور حضورؐ سرورکائنات سے آہوں اور سسکیوںمیں اجازت چاہی۔میں نے حسنات سے روتے ہوئے کہا کہ حضورؐ پاک کو بتا دو کہ ہم اب جارہے ہیں۔۔۔۔پتہ نہیں پھر کب روضہ اقدس کی زیارت نصیب ہو گی۔۔۔ اصل منزل تو یہی ہے ہم تو پھر بھٹکے ہوئے سفر پر جا رہے ہیں جو منزل نہیں ہے۔آہوں اور سسکیوں کے ساتھ حرم سے نکلے اور پھر اسی طرح ایک دوسرے کو گلے ملتے ہم مدینہ پاک سے مکہ پاک کیلئے اور بڑے بھائی ریاض کیلئے روانہ ہوئے۔ بڑے بھائی جان اور بھابھی رضیہ طارق نے اور میرے پیارے بچوں کائنات، عائشہ اور عبداللہ نے ہم سب کے لئے بیش قیمت تحائف کے بڑے بڑے بیگ تیار کررکھے تھے۔ جن میں سونے کے ڈھیروں زیورات، ملبوسات، ڈھیروں تسبیحات، جائے نماز چادریں، ڈھیروں کھلونے ہزاروں ریال اور سب سے بڑھ کر محبت و خلوص کے احساسات سے نوازا۔ پھر راستے میں واقع میکوٰۃ مسجد قباء رکے۔ اور پھر بڑے عمرہ کیلئے وہاں سے غسل کیا ، احرام باندھے، نماز مغرب ادا کی اور پھر روانہ ہوئے۔ واپسی کا یہ سفر بہت رلا دینے والاتھا اس دوران بڑے بھائی اور فیملی وقفے سے ہماری خیریت دریافت کرتے رہے۔
اداسی اور غم کی اس کیفیت میں اور اضافہ ہوا جب ہمیں چھوٹے بھائی اخلاق احمد نے ہمارے عزیز چچا مسعود صاحب کی وفات کی خبر سنائی۔ ہم انکی مغفرت کے لئے دعائیں مانگنے لگے۔ رات گئے ہم مکہ پاک پہنچے، وہاں سیدھے حرم پاک خانہ کعبہ گئے، عمرہ ادا کیا، بعد میں فجر کی نمازکا وقت قریب تھا ۔نوافل ادا کرتے رہے۔ باجماعت نماز فجر ادا کی وہاں سے گھر کی جانب گئے۔ گھر پہنچے اور جاکر ناشتہ کرکے سو گئے دوپہر کا وقت تھا ابھی میں سویا ہوا ہی تھا کہ عزیز دوست عظمت (وقاص)کا فون آ گیا عظمت میرے بچپن کا یار ہے جو ریاض میں ایک سیمنٹ فیکٹری میں اچھے عہدے پر فائز ہے مجھے ملنے کیلئے اور ایک ساتھ عمرہ ادا کرنے کے لئے سپیشل ریاض سے آیا تھا۔ کیا بات ہے ۔یار ہوتو ایسا۔ میں نے عظمت کو گھر کا ایڈریس سمجھایا اور پھر تھوڑی دیر بعد عظمت بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچ گیا۔ ہم بڑی دیر تک ایک دوسرے سے گلے ملتے رہے، کافی طویل عرصے کے بعد ہم مل رہے تھے بڑی دیر تک ہم گپ شپ کرتے رہے سکول کے دور کو یاد کرتے ، ٹیچرز کے بارے میں باتیں کرتے اور اپنے دیگر کلاس فیلوز کے متعلق ،گھروں اور گھر والوں کو یاد کرتے کرتے کافی وقت بیت گیا۔ پھر جدہ سے مجھے سرکاراں دے ڈیرے کی کال موصول ہوئی ،جس میں سب دوستوں نے مدینہ پاک کے مبارک سفر اور عمرہ کی ادائیگی پر مبار کباد کے ساتھ مطالبہ کیا کہ ہم پھر سے آپکے انتظار میں چشم برآہ ہیں۔ عظمت بھی کہنے لگا یار افتخار میں جب سے سعودیہ آیا ہوں جدہ نہیں جا سکا۔ اس طرح پھر ہم نے پرویز، شاہد اور اظہر عرف سرکاراں سے وعدہ کیا کہ ٹھیک ہے ہم شام تک عمرہ ادا کرتے ہیں آپ ہمیں لینے آ جائیے۔
عظمت اور میں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر طواف کعبہ کیا اور عمرہ ادا کیا۔ تب تک ڈیراں سرکاراں کے گدی نشین
اظہر سرکار گاڑی لیکر حرم کے پاس پہنچ چکے تھے۔ بڑی چاہت اور پیار سے عزت و احترام سے ہمیں پھر یہ شرف حاصل ہو رہا تھا کہ ہم ڈیرہ سرکاراں جو کہ بنی مالک جدہ میں واقع ہے کی حاضری نصیب ہو رہی تھی۔پھر سے تمام پیارے پرویز، شاہد ،حافظ، ریاض، اشتیاق بٹ ، مبشر دیدہ دل فرش راہ کیے ہوئے تھے اور جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ جو پیروں مرشدوں اور فقیروں کے یار ہوتے ہیں انہیں کھانے کو بہت اچھا ملتا ے لہذا رات پھر گپ شپ ،کھانا پینا چلتا رہا۔
اظہر سرکاراں نے بیش قیمتی تحفے کی پوٹلی باندھی ہوئی تھی فرمانے لگے صبح میں نے جلدی کام پر چلے جانا ہے یہ تحائف آپکے ساتھ جائیں گے۔ پرویز اور شاہد پھر میری طرف دیکھ رہے تھے ۔وہ یہی چاہ رہے تھے کہ اس دربار پر نہ سویا جائے بلکہ دل جلے ڈیرے پر جایا جائے تاکہ کوئی تشنگی باقی نہ رہے۔اور اس طرح رات کا بقیہ حصہ دل جلے ڈیرے پر گزارا گیا اور باتوں ہی باتوں میں صبح ہو گئی ۔ پھر ایک عدد بہترین ناشتہ ہمارے انتظار میں تھا جو میزبانوں کی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔پرویز نے جو ایک خاص آئیٹم بنائی تھی وہ’’ دل جلے کباب تھے‘‘۔کہ مجھے وہ شعر یاد آ گیا۔
چمن سے آ رہی بوئے کباب
کسی بلبل کا دل جلا ہو گا
اور شاہد نے بنایا تھا۔
’’جدائی پلاؤ‘‘
دل میں لگی آگ کو رائیتے سے ٹھنڈا کیا۔ پرویز کچن سے ہاتھ میں(سموک) مچھلی فرائیڈ لاتے ہوئے بولاکہ سینے میں لگی آگ بھڑکتی رہے تو بہتر ہے۔تھوڑی دیر سستانے کے بعد پھر اٹھ گئے۔ پرویز اور شاہد نے بھی تحائف کے بنڈل میرے آگے بڑھا دیے۔ ایک دوسرے سے بچھڑنے کا وقت آ چکا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی اجازت چاہی۔ میں اور عظمت واپس مکہ کیلئے روانہ ہوئے ہمیں الوداع کہنے کیلئے سارے احباب جمع تھے۔ بلاشبہ میں ان سب دوستوں کی محبت کبھی بھی بھلا نہیں پاؤں گا۔ مکہ تک ہم دونوں اداس اداس واپس لوٹے۔ کیونکہ ابھی یہاں سے میں نے اور عظمت نے یہاں سے جدا ہونا تھا یہ منظر میرے لئے بڑا دل فراش تھا۔ عظمت کی آنکھوں میں آنسو اور ہاتھوں میں ایک بڑا بنڈل تھا جس میں ڈھیروں ریالوں میں بندھا دوستی کا وہ انمول تحفہ تھا جسکی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔
دعوت حافظ نوید صاحب:
امتیاز بھائی کے دوست حافظ نوید صاحب ہماری الوداعی دعوت کا اصرار کر رہے تھے ۔سو تمام اہل خانہ کے ساتھ ان کے گھر گئے۔ حافظ صاحب کا ماشااللہ جدہ میں بہت وسیع کاروبار ہے۔ بڑے عرصے سے اپنے بھائیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں انکے تمام اہل خانہ نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔ مشروبات ،فروسٹس سے تواضع کے بعد ایک دفعہ پھر ہمیں ہوٹل مہران لے جایا گیا۔ اور بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا گیا جس میں چکن کارن سوپ، مٹن، فش، باربی کیو شامل تھا۔ اور بعد میں انتہائی پر خلوص خواہشات کے ساتھ، تحائف سے نوازا گیا۔ بعد میں چائے کیلئے حافظ نوید صاحب کے بڑے بھائی جو بلڈنگ کنڑیکٹر ہیں اپنے گھر لے گئے اور پھر کافی گپ شپ بعد وہاں سے واپس مکہ لوٹے۔
روح پرور عمرہ:
میرے دل میں رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ میرے پیارے بھائیوں ،بھابھی اور بچوں نے اتنی محبت، اتنی چاہ سے جس قدر ہماری مہمان نوازی کی ہمیں وزیروں، مشیروں جیسا پروٹوکول دیا۔ ہمارے کھانے پینے کا ،سفری سلسلوں کا، ہمارے آرام کا، اور پھر وہ سب اسے فرض عین سمجھتے ہیں۔ تو میں اپنے ان سب پیاروں کیلئے کچھ بھی تو نہیں کر سکا۔ یہ سوچتے ہوئے میں نے مسجد عائشہ سے مکہ پاک حرم کی جانب پیدل جاکر عمرہ کی ادائیگی کا پروگرام بنا لیا۔ یہ عمرہ میں اپنے ان پیاروں کے نام کرتا ہوں۔ مسجد عائشہ سے حرم پاک کا فاصلہ 7 کلو میٹر کے قریب ہے۔ والدہ فرمانے لگیں بیٹا سخت گرمی اور لو ہے میں نے کہا ماں جی، میرے جذبے کے آگے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے پیارے بھائی عبدالستار طارق، (جنہوں نے 3000 کلو میٹر سے بھی زیادہ کا سفر اپنی انتہائی تھکا دینے والی جاب کے باوجود ڈرائیو کر کے کیا۔ کئی سو کلو میٹر اپنی محبت والے لوگوں سے ہماری دعوتوں کا اہتمام کیا۔ اپنے آرام کو ترک کر کے ہمیں پھولوں کی سیج پر اپنے گلے کا ہار بنا یا۔ میں اور میرا بیٹا انکی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں بھابھی جان (رضیہ طارق) کہ جنہوں نے ہمارے کھانے، پینے ،پہننے روزانہ عمرہ کے اہتمام کیلئے، انکے مہمان رہے۔ اتنے دن وہ سوئی نہیں میں اور میرا بیٹاحسنات انکی عظمت کوسلام پیش کرتے ہیں۔ پیارے بھائی امتیاز احمد صاحب جنہوں نے ہمارے لئے اتنی لگژری رہائش کا انتظام،24گھنٹے ہماری خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ہمیں سر آنکھوں پہ بٹھایا۔ ہمارے آرام کیلئے اپنے آرام کی پرواہ نہیں کی۔ میں اور میرا بیٹا حسنات انکی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پیارے بھائی اشفاق صاحب تھکا دینے والی جاب سے واپسی پر بھی ہمارے لئے اپنی سوتی ہوئی آنکھوں کو جگائے رکھا۔ جنہوں نے دل و جان سے ہمیں محبوب بنائے رکھا۔ اور ہمیں
سیر یں کرانے کی خاطر ڈرائیونگ کے دوران (نیند میں) کئی بار اپنی گاڑی ٹیلوں پر چڑھا دی۔ میں اور میرا بیٹا انکی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
پیارے بھائی عمران کو کہ جس نے برسوں سے اپنے دل میں ہمیں مقدس ارض کی زیارات کیلئے اللہ سے تمناکی تھی پھر اپنا خون پسینہ ایک کر کے، دن رات محنت کرکے ہماری اور اپنی نیک آرزو کی تکمیل کی۔ میں اور میرا بیٹا حسنات ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔مجھے فخر ہے ان سب پیاروں پر، میں یہ احسانات یہ فرض کبھی بھی نہیں اتار سکتا۔ میں نے ان سب پیاروں کیلئے پیدل عمرے کیے۔ ان سب کیلئے ڈھیروں دعائیں کیں۔ وہ پیدل عمرے میرے لئے سب سے زیادہ لطف انگیز رہے۔ کائنات بیٹی، عائشہ بیٹی اور عبداللہ جنہوں نے میرے اور حسنات کے ساتھ (عمر اور نور) لاتعداد عمرے کیے۔ لاکھوں دعائیں کیں۔ ہزاروں نوافل پڑھے۔ غلاف کعبہ سے لپٹ کر یہ ننھے منے روئے۔ اللہ سے ہمارے لئے التجائیں کرتے رہے ۔ ان سب کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔
آخر میں ایک بار پھر عرب میں مقیم میرے سارے احباب میرے پیاروں کے اعزاز میں سب کو سلیوٹ کرتا ہوں۔
واپسی کا سفر:
سامان سمیٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ یادیں سمیٹی جا رہی ہیں۔ حقیقی دنیا، اصل رشتوں سے جدائی کا وقت قریب ہے۔ اب میں پھر سرابوں ،خوابوں میں جا رہا ہوں۔ قلم بھاری پڑ رہا ہے۔ تمام بھائیوں دوستوں ،عزیزوں کی طرف اور بچوں سے دئیے گئے بابرکت تحائف کی پیکنگ بھی کر دی گئی ہے۔مجھے ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے میرا سفر آخرت ہے میں نے کفن اوڑھ رکھا ہے۔ میری میت کو غسل دیا جا رہا ہے۔ مجھے خوشبوئیں لگائی جا رہی ہیں میں محسوس کر سکتا ہوں میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں مقدس سبز گنبد میری غلیظ نگاہوں سے دور ہٹتے جا رہے ہیں۔ میں تنہا اندھیروں میں جانے لگا ہوں ۔میں تو اب بھی صنم آشنا ہوں۔ میرا تو دل میلا ہے میں تو بشری خواہشات سے بھرا غلاظت کا ڈھیر ہوں۔ حضرت ایوب ؑ اللہ کے انتہائی برگزیدہ نبی آزمائش ربی سے گزر رہے تھے اتنی تکلیف میں پڑے ہوئے تھے اپنے ستر کوریت سے ڈھاپنا ہواتھا۔ کیڑے جسم سے گوشت کھا رہے تھے دل میں خیال آیا کہ اس سے زیادہ تکلیف اور کیا ہو گی ۔ فوراً وحی نازل ہو گئی اللہ نے فرمایا۔’’ایوبؑ کیا میں ہواؤوں کو حکم دوںکہ تمہارے جسم سے یہ ریت بھی اڑا کر لے جائیں وہ تو نبی تھے اور میں کیا ہوں؟ نہ تین میں نہ تیرہ میں۔نہ اعداد میں نہ شمارنہ کوئی حیثیت نہ میری حقیقت۔ خاک در خاک ۔ مشتِ خاک گربیاںچاک۔
جنس دلذت، طمع کا دلداہ۔
سرتا پا خواہشات! آدم زادہ
جہاز کے عقبی حصے میں میری میت کو رکھ دیا گیا ہے۔جہاز نے زمین سے پاؤں اٹھا دیے ہیں۔ گویا میرے جنازے کو چار کاندھوں نے اٹھا دیا ہے اور آواز بلند ہوتی جا رہی ہے۔
کلمہ شہادت ۔ الشہدان لا الہ الا اللہ
تمت بالخیر
جنازہ روک کر میراعجب انداز سے بولے
گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو

You must be logged in to post a comment Login