دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن … سفرنامہ مری ہلز

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن 
مری ہلز – میرے نہایت ہی قابل احترام بھائی اور پیارے دوست حاجی ملک افضل نے جاپان سے آتے ہی یہ خوشخبری دی ، کہ انکی خواہش ہے کہ آپکو مری ہلز میں واقع انکا ذاتی محل سیسل ریزارٹس ، جس کی مالیت قارئین کروڑوں میں ہے، کی سیر کروائی جاۓ ، جہاں جا کر ہم نمازیں ادا کریں ، خوب گپ شپ کریں ، لڈو کھیلیں ، خود چاۓ بنا کر پئیں ….، ادب  کی بے ادبی کریں ، پاکستان بمقابلہ سری لنکا سیمی فائنل دیکھیں ، انجواۓ کریں . لہذا ایک تیر سے کئی شکار کے مصداق اسلام آباد میں  سیاسی شخصیات سے  ملاقات ، اور  مچھلی بٹیر اڑانے کے بعد قافلے اور راستے بدل گۓ. حاجی رشید ،ملک افتخار، لیاقت بھٹی ، رحمان ملک ، ملک خرم ، ملک شہباز واپس گوجرانوالہ چلے گۓ جب کہ ملک افضل ، بابا عابد ، ملک منیر اور میں ملک افضل کی پراڈو ، جسے بابا جی عابد نہایت مہارت سے چلا رہے تھے مری کے لئے روانہ ہوے. ساجد حسین کھٹر اور راجہ الطاف نے بھی عثمانیہ پر ہمیں دعوت کھلانے کے بعد مری دوبارہ  ملنے کا عندیہ دے دیا … جس سے محفل اور بھی رنگین ہونا تھی . حمد و نعت کے بعد گانے اور شعرو شیری رحمان ہوتی رہی..  مختلف تفریحی مقامات پر گاڑی روک کر فوٹو کشی بھی ہوئی … اور یوں یہ قافلہ مغرب کی اذان سے تھوڑی دیر پیشتر سیسل ریزارٹس پہنچ گیا . محل کے مکین چونکہ سال بعد اس گھر میں آے تھے .. اس لئے یہ گھر اپنے مالک کے بغیرکافی اداس ، اداس اور تھوڑا ناراض سا لگ رہا تھا. چار یار فوری طور پر اسکی اداسی اور ناراضگی دور کرنے  کے لئے اسکی صفائی میں جت گۓ .. کچھ زیادہ زحمت نہیں اٹھانی پڑی ، کیونکہ افضل صاحب کے  چار مقامی ملازم جن میں سویپر، پلمبر ، واچ مین اور الیکٹریشن چند منٹوں میں ہی ہمارے پاس پہنچ گۓ ، جنہوں نے ہمارے ہاتھوں سے واکیوم کلینر اور ٹاولز پکڑ لیے اور بیڈ سے باتھ اور کچن سے ٹی- وی اور ٹریس تک شیشہ کر دئیے. الیکٹریشن ، پلمبر نے اپنے اپنے حصے کا کام کر دیا ، گیزر، سلنڈر کی مینٹینس کر دی .. اور واچ مین صاحب اشیاۓ خورد و نوش لے آے . نماز مغرب کی امامت بابا عابد نے کی اور بعد میں نوافل اور قران پاک کی تلاوت کر کے گھر کو بابا عابد کی پھونکوں سے  بلیات و آفات کو گھر سے بھگایا گیا . چاۓ بنانے میں بھی بقول ملک افضل صاحب کہ بابا جی اچھی چاۓ بنا سکتے ہیں…. تاکہ بابا جی عابد کی جان سکون سے نہ رہے… اور دوسرے یار آرام ہی کریں. ابھی چاۓ کا ایک دور چلا تھا کہ کال آگئی کہ راجہ الطاف اور ساجد حسین کھٹر محل کے بیسمنٹ میں واقع پارکنگ تک پہنچ گۓ ہیں .. جنہیں نہایت محبت کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا ، اور چاۓ کا دوسرا دور کیکس اور بیکس کے ساتھ کیا گیا ، یہ دوسری چاۓ بھی بابا جی عابد نے ہی بنائی . قارئین کرام یہ بابا عابد بڑی کرنی والے بابا جی ہیں جو پوری دنیا کھنگال چکے ہیں .. ملک افضل کے انڈرویر فرینڈ ، یعنی کہ لنگوٹیے ہیں. پاپا جی ، ہشنے، گھشنے ، میر زمانے ،  پتا نہیں کیا کیا اور کون کون سی بولی سے بابا جی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے حوصلے بلند کیے … پھر بھی ہماری قسمت ….. میچ کی افسردگی کے بعد مال کی طرف جانا بہت ضروری ہوگیا تھا … آب و ہوا میں خوب نمی تھی ، سب دوستوں کو انکی پسند اور سائز کے مطابق گرم کوٹ ملک صاحب کی کبارڈ سے مل گۓ البتہ میں نے جو ملک صاحب والا کوٹ پہنا ، تو ایسے لگنے لگا جیسے کوؤں کو بھگانے کے لئے کسانوں نے لکڑی کی چھڑی کو لباس پہنا کر کھیتوں میں گاڑھا ہوتا ہے ….. جی پی او سے جلد ہی پنڈی پوائنٹ کی طرف تیز قدم کرتے واپس جلد ہی لنٹوٹس ریسٹورانٹ پر بیٹھ گۓ . اب وہاں بھی کامران خان دانت پیٹھ پیٹھ کر ناکام کرکٹ کی لازوال داستان پیش کر رہے تھے اور تب ہم اپنا سارا غصہ گرم گرم ہاٹ اینڈ سار سوپ پر نکال رہے تھے . جناب راجہ الطاف اور ساجد حسین کھٹر آف جاپان جو گورنمنٹ کی کالز اسلام آباد سے بار بار آرہی تھیں کہ اگر وہ مری رک گۓ تو اسلآم آباد کے گیٹ ان کے لئے بند کر دئیے جائیں گے ، لہذا نہ چاہتے ہوے بھی انہوں نے ہم سب سیے اجازت چاہی … اور ہم انھیں خدا حافظ کہنے کے بعد مال کا نظارہ لینے لگے جہاں تھوڑی دیر پہلے بڑی سکرین کے نیچے منچلے جوانوں نے ڈھول والوں کو بلوایا تھا .. جب بھی پاکستانی وکٹ گرتی .. ڈھول بجنا شروع ہوجاتا .. بابا عابد جو پامسٹری بھی خوب جانتے ہیں ، نے ہمیں بتایا کہ یہ منچلے لڑکے سری لنکن نیشنل ہیں … اب انکی ہمدردیاں سری دیویوں کے ساتھ ہیں …. خنکی کے پیش نظر جلد ہی ہم کافی شاپ پر کافی کے کافی بڑے بڑے گھونٹ بھررہے تھے. اب واپسی سیسل ریزارٹس کی جانب مڑے تو لطیفہ بازی میں بھی انتہا کر دی گئی ….. سارے سفر کے دوران میاں صاحب ، ملک افضل کے دوست کو سب نے مس کیا ، نہایت مخلص و ہمدرد ہیں .. انکی باتیں بڑی سافٹ بلکہ ہینڈی کرافٹ یا سینڈی کرافٹ ہوتی ہیں…. وہ خرابی طبعیت ہمارے ساتھ نہ آسکے تھے. گھر واپس پہنچ کر عشاء کی نماز ادا کی اور پھر بستروں پر دراز ہوگئے.  صبح فجر کی نماز کانوں میں پہاڑوں، تازہ ہواؤں ، مہکتی فضاؤں ، جھیلوں اور آبشاروں سے ٹکرا کر کانوں میں رس گھول رہی تھی . نماز ادا کی گئی اور پھر بیڈ ٹی علامہ افتخار نے بنائی …. جو بابا عابد کو پسند نہ آئ … موصوف نے اسے بیڈ ٹی کی بجاۓ   BAD  TEA    کا نام دے دیا … پھر دوسری بار چاۓ بابا جی نے بنائی اور ساتھ کیکس اینڈ بیکس … اور لڈو کا مقابلہ شروع ہوگیا . ملک افضل اور میں پارٹنر جبکہ ملک منیر اور بابا عابد پارٹنر … وہ لوگ ہم سے جیت گۓ …. واپسی کے سفر میں بابا عابد نے انکشاف کیا کہ وہ ہماری گوٹیاں ادھر ادھر کر کے چیٹنگ سے جیتے ہیں … واہ جی واہ.. خیر اب کیا کیا جاسکتا تھا . گیزر کا  گرم پانی بوڑھے اعصاب کو تقویت دے رہا تھا .   نہا کر ڈریس تبدیل کیے .. اور اس سے پہلے سلوٹیں دور کرنے کے لئے چند کپڑے استری علامہ افتخار نے اسطرح کیے کہ … خدا کی پناہ …. وہ کپڑے جلتے جلتے بچے ….  ہم پارکنگ ایریا میں کھلی جگہ پر سورج کی پڑتی دھوپ کو نعمت خداوندی سمجھتے ہوے لطف اندوز ہو رہے تھے .
دھوپ ہے کیا اور سایہ کیا ہے اب معلوم ہوا .. یہ سب کھیل تماشہ کیا ہے .. اب معلوم ہوا 
صحرا صحرا پیسے بھٹکے … ساری عمر جلے .. بارش کا اک قطرہ کیا ہے اب معلوم ہوا 
جمعہ کی نماز کا وقت ہوا چاہتا تھا .. سیسل ریزارٹس کی اپنی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد واپس گھر آکر اپنا سامان اٹھایا گیا .. بابا عابد نے سورہ یٰسین پڑھ کر اور علامہ افتخار نے آیت الکرسی  کے بعد پھر گھر کو پھونکیں ماریں… اور پھر … بڑے عجیب ہیں آداب رخصت محفل … کہ اٹھ کے وہ بھی گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی .. پراڈو کو پارکنگ میں کھڑی کرنے کے بعد مال کا پیدل مارچ ہوا تو بھوک نے زور پکڑ لیا …  بھوک بھی ایک نعمت ہے … بھوک نہ لگے تو کھانے کی لذت بھی نہیں آسکتی . ملک صاحب نے تازہ بکرے کے اتنےبڑے دل ، گردے اور ایک سینسرڈ نام …
 بنوا دئیے .. جتنے بڑے انکے اپنے ہونگے … مکھن سے تیار یہ دیسی مال…. مال روڈ کے ریسٹورانٹ کے کشمیر پوائنٹ ویو پر … بڑی تسکین دے رہے تھے .. بعد میں چاۓ کی چسکیاں نظروں سے مری کے دلفریب منظروں کو خدا حافظ کہ رہیں تھیں … اداس لمحوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے .. کوئی تو سیکھے … گاڑی کے انجن نے ملکہ کوہسار مری کا بوسہ لے کر اسے نہ چاہتے ہوے بھی خدا حافظ کہا اور اپنا منہ اس سے موڑ لیا … اور پھر … جس موڑ پر کیے تھے ہم نے قرار برسوں … اس سے لپٹ کے روۓ دیوانہ وار برسوں … ماحول میں پھیلی ہوئی افسردگی کو ختم کرنے کے لئے جناب ملک افضل … توں   کی جانے بھولیے مجے .. سناتے رہے اور ہنساتے رہے .. مزید انہوں نے راول ڈیم کے نظارے بھی دکھانے کا پیغام سنا دیا کہ ہم ایسے واپس نہیں جائیں گے … لہذا یہ قافلہ وہاں رکا .. نماز عصرڈیم کے پارک میں پڑھی گئی .. آگے گۓ تو دو نوجوان بانسری اور طبلے کی سنگت پر خوبصورت گیت گنگنا رہے تھے ..  ملک افضل صاحب نے انھیں وہاں سے اٹھنے اور ہماری کمپنی کرنے کی درخواست میرے ہاتھوں بھجوائی … جنہوں نے جلدی جلدی اپنے ساز اٹھاۓ … اور عالم بے یقینی میں میرے پیچھے پیچھے چل دئیے. جب تک میں ان فنکاروں کو لے کر جھیل کنارے پہنچا .. تب تک ملک افضل  بابا عابد اور ملک منیر کشتی پر سوار ہوچکے تھے … پہلے پہل تو فنکار ڈر گۓ … کہ پتا نہیں آگے کیا ہوگا .. کیونکہ فنکار ہوتے ہی حساس لوگ ہیں … پھر ہم سب نے انکی تسلی کروائی کہ کچھ نہیں ہوگا .. اسی طرح میں نے پانی کی گہرائی محسوس کرتے ہوے ناخدا یعنی ملاح سے حفاظتی انتظامات کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ فکر نہ کریں … پانچ فٹ سے زیادہ گہرائی نہیں ہے … میں نے اسے کہا الله کے بندے جس کا قد ہی پانچ فٹ ہوا … وہ تو سر تک ڈوبے گا ….. چپو چلنے لگے ..ڈھول بجنے لگے … سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے … میں تاں ہو ہو گئی قربان وے …… او میرے سانوریا بانسری بجاۓ جا … قارئین کرام آپ سب کی محبت میں دل تو نہیں چاہتا کہ اس سفر کا احوال ختم کروں لیکن … اختتام کرنا پڑتا ہی ہے … یہ زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم .. گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہم … ہم اپنو زندگی تو بسر کر چکے رئیس .. یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم … آخر میں آپ سب سے اجازت لیتے ہوے یہ ضرور کہوں گا کہ ویبسائٹ تلونڈی ٹائمز ڈاٹ کام کے ٹاپ پر میری تحریر کے متعلق اپنے خوبصورت کامنٹس ضرور بھیجے اور اسی طرح فیس بک پر بھرپور کہ فنکار تالی کے بغیر مر جاتا ہے…. الله آپ سب کو دیس و پردیس اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین 

You must be logged in to post a comment Login