ساون پر لکھی علامہ افتخار کی تحریر خاص آپکے لئے

 ساؤن کی آج سولہ تاریخ ہوچکی . ہر سو ہریالی ایسے جیسے قدرت نے ساری زمین پر گہرے سبز رنگ کا خوبصورت ، دیدہ زیب قالین بچھایا ہوا ہے . ساؤن پر ہزاروں شاعروں نے لاکھوں گیت ، نظمیں اور غزلیں لکھ دیں اور اب بھی لکھ رہیں ہیں .
میرے نیناں ساون بھادوں پھر بھی میرا من پیاسا
ساون کے پڑے جھولے ، تم بھول گۓ ہمکو .. ہم تم کو نہیں بھولے
حاجی ملک افضل نے اپنی پنجابی نظم میں ساون کا ذکر کچھ یوں کیا
او گلیاں ، او چوبارے …….
تے او بلو دے شرارے …….
ٹھنڈی بوہڑ دی چھاویں ………
او پینگ دے ہلارے ………
جہیڑے جھونڈ دے ساں سارے ….
جدوں یاد آوندے نیں تے بڑا یاد آوندے نیں
اور
دل میں آگ لگاۓ ساون کا مہینہ ، نہیں جینا ، نہیں جینا تیرے بن نہیں جینا
ساون آے ، ساون جاۓ ، تجھ کو پکارییں گیت ہمارے
شادی سے پہلے تو واقعی ایسے ہی ساون آگ لگاتا تھا .پر اب تو سالا مچھر ہی ستاتا ہے … واقعی وقت کے ساتھ ساتھ چینج آجاتا ہے ..
. عمران خان یا اوباما کے نعرہ چینج کہنے سے نہیں
تو پھر اگر آپ شادی شدہ ہیں تو چاہے آپکو مچھر جگاۓ ، یا اگر غیر شادی شدہ ہیں تو آپکو کسی کی یاد اور … کسی کے
زیادہ دوست ہیں تو یادیں جگائیں یا پھر سب کو پاکستان کی بدترین لوڈ شیڈنگ جگاۓ
جاگتے رہئے کیونکہ
اک جاگن .. اک جاگ نہ جانن
اک جاگدیاں ہی ستے ھو
کی ہویا جے الو جاگن
سا ہ لیں کبتے ھو
مالک دا در چھڈدے ناہیں
راتیں جاگن کتے ھو
میں قربان انہاں توں باھو
جنہاں کھو پریم دے جتے ھو

You must be logged in to post a comment Login