عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
آج میرے موبائیل پر یو کے سے آئ ایک کال نے مجھے فرط حیرت میں ڈال دیا . کالر کا لہجہ بہت ہی شائستہ اور دوستانہ تھا . کالر نے مجھے سوال کیا . کیا آپ تلونڈی ٹائمز کے ایڈیٹر علامہ افتخار بات کر رہے ہیں ؟ میں نے اثبات میں جواب دیتے ہوے کالر سے پوچھ ڈالا کہ آپ کون بات کر رہے ہیں اور کیا آپ کا تعلق کسی طرح تلونڈی سے ہے ، کالر نے کہا جی بہت گہرا تعلق ہے پر شاید آپ نہ پہچانیں ، میں نے تجسس سے پوچھا آپ بتائیں میں ضرور پہچانوں گا . کالر نے پھر سوال کردیا کیا آپ کبھی اسلام آباد رہے ؟ میں نے جواب دیا جی بالکل رہا ، کبھی جاب کرتا رہا اور سن انیس سو اٹھاسی میں جی ٹین فور، عمر مارکیٹ میں ایک ویڈیو شاپ خریدی . اس پر کالر نے نہایت ایکسائٹمنٹ بھرے انداز سے پوچھا ، آپکا کوئی شہزاد نامی دوست تھا ادھر … تو مجھے یاد آیا .. اور میرے منہ سے بے اختیار نکلا ثاقب شہزاد ؟ تو شہزاد میری یاداشت کی جلدی سے بحالی پر خوش ہوا اور اس نے کہا کہ آپ نے تو جلدی سے مجھے پہچان لیا اور پھر مجھے بے حد شرمندگی بھی ہوئی . چھبیس سال گزر جانے کے باوجود شہزاد ثاقب نے مجھے نہیں بھلایا . قارئین چھبیس سال پہلے کا ثاقب شہزاد میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ، وہ ایک نہایت مہذب ،بااخلاق ، ہمدرد ، سچا اور حساس طبعیت کا بچہ تھا وہ اس وقت مڈل سکول کا طالبعلم تھا وہ اپنی سپورٹس سائیکل پر میری شاپ پر ٹام اینڈ جیری ویڈیو لینے آیا کرتا تھا . مجھے اکیلا اور اداس محسوس کرتا تو اپنے ہاتھ سے کوئی خوبصورت سمائیل پینٹگز بنا کر لاتا ، وہ اپنے نام کی طرح خوبصورت ، روشن چہرے اور خوبصورت دل کا مالک تھا . میری ان دنوں شاعری کی ایک کتاب چھپی جس کا نام لب تشنہ تھا . تب مجھے اس نے اپنے ابو جان کے بارے بتایا . اسکے ابو کا نام اختر امان تھا جو بہت بڑے شاعر تھے اور اس وقت گورنمنٹ آف پاکستان کے ادارہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر تھے ، پھر شہزاد مجھے اپنے ساتھ ان سے ملوانے گھر لے گیا . میں نے لب تشنہ انکی خدمت میں پیش کی تو انہوں لب تشنہ نام کی مناسبت سے مجھے اپنے لکھے دو اشعار سناۓ
وہ سب کو ہونٹ پیاسے دے گیا ہے
ہمیں جھوٹے دلاسے دے گیا ہے
ہم اس سے حق نہیں بس بھیک مانگیں
ہمارے ہاتھ کاسے دے گیا ہے
میں شہزاد کو اسکے گھر والوں کی خیریت دریافت کر رہا تھا تو اس نے اداسی سے کہا کہ تین سال پہلے ابو کا انتقال ہوگیا تھا . وہ بہت پیارے انسان تھے . نہایت شفیق اور مہربان . الله انھیں غریق رحمت کرے اور انکے تمام اہل خانہ کو صبر عطا فرماۓ . میں جب بھی گاؤں آنے لگتا تو اپنے اس قیمتی دوست کو شاپ کیز دے آتا ، وہ انکار تو نہ کرتا تھا لیکن اسکے لہجے سے یہ ضرور محسوس ہوتا کہ میں کوئی قیمتی اثاثہ اسے سونپ کر جارہا ہوں حالانکہ میری نظر میں صرف میرا دوست ہی قیمتی تھا ، جو کسی کا دل نہیں دکھاتا تھا . جس کی تربیت عظیم والدین نے کی تھی . قارئین تلونڈی سے ثاقب شہزاد کا کوئی رشتہ نہیں تھا لیکن چھبیس سال گزر جانے کے باوجود بھی اس نے مجھے تلاش کر ہی لیا …. وہ آج دوستی میں پھر مجھ سے بازی لے گیا ، الله اسے خوش رکھے . ثاقب شہزاد بتا رہا تھا کہ اسکے گھر والے چھبیس سال مجھے تلونڈی والے دوست کا پوچھتے رہے اورشہزاد نام کے ساتھ تلونڈی والا کہ کر چھیڑتے تھے . شہزاد زندگی میں کبھی بھی تلونڈی نہیں آیا … لیکن مجھے آج بے حد خوشی ہے کہ چھبیس سال بعد بھی تلونڈی سرچ میں ، الله کے فضل ، دوستوں کی محبت اور ، گلوبل ویلج انٹرنیٹ ، فیس بک ، تلونڈی ٹائمز کی بدولت مجھے اپنا معصوم اور پیارا دوست مل گیا . شکریہ

 

shazad

You must be logged in to post a comment Login