خانہ بدوش- تحریر علامہ افتخار

خانہ بدوش- تحریر علامہ افتخار
اسکا کوئی نام اور پتا ٹھکانہ نہیں معاشرہ اسے پکھی واس ، ٹپری داس کہ دیتا ہے ہم دیکھتے آے ہیں کہ یہ لوگ نسل در نسل موسم رت بدلنے کے ساتھ ساتھ علاقے بھی بدلتے رہتے ہیں . دو سال پہلے یہ لوگ یہاں گوجرانوالہ آے جہاں ہماری ملک برادری سردار یاسین ملک ویلفیئر ہسپتال کے نام سے ایک عظیم الشان ہسپتال بنا رہی ہے جو اپنی تکمیل کو عنقریب پہنچ رہا ہے . انکی کوئی پچاس کے قریب جھونپڑیاں جانور اور زندگی گزارنے کا تھوڑا بہت سامان تھا . جپسی سب کی نمائیندہ بن کر صدر ملک برادری پنجاب حاجی ملک افضل صاحب کے پاس آئ اور تمام لوگوں کے رہنے کے لیے جگہ کی درخواست کی . ملک افضل صاحب نے بخوشی اجازت دے دی . پھر یہ خاتون تھوڑی دیر بعد مسواکیں لے کر آگئی اور ہم سب کو تحفہ میں پیش کیں ملک افضل صاحب نے اسے کچھ رقم دی اور کہا کہ اپنے بچوں اور فیملی کے لیے کھانے پینے اور پہننے کا سامان خرید لو.کئی روز گزر گۓ میں نے اسے بائی پاس پر ہاتھ میں مسواکیں اٹھاۓ ایک منچلے مرد سے الجھتے دیکھا جپسی اس سے مخاطب ہو کر کہ رہی تھی کہ مسواک فروش ہوں جسم فروش نہیں ہوں کسی غلط فہمی میں نہ رہنا لوگ جمع ہوگئے اور وہ آوارہ لڑکا وہاں سے بھاگ نکلا . لوگ زیادہ تماشہ ہی دیکھتے ہیں . یہ عورت روتی ہوئی اپنی جھونپڑی میں واپس آگئی اور کہنے لگی بابو جی کیا کیا جاۓ کہ لوگ کسی حال میں زندہ بھی نہیں رہنے دیتے میں نے حوصلہ دیتے کہا کہ خدا پر بھروسہ رکھو وہ بہتر کرنے والا ہے . اسکا شوہر بےروزگار تھا اور ہمارے ساتھ ہی قریبی مسجد میں نماز ادا کرتا ہے اور پھر ایک روز معجزہ رونما ہوگیا . ہم آفس میں بیٹھے تھے اس خاتون نے ملک افضل صاحب کو سو ڈالر دکھاتے ہوۓ پوچھا حاجی صاحب میرا خاوند لنڈے سے کوٹ لایا ہے اسکی جیب سے یہ کاغذ نکلا ہے ذرا دیکھیں تو . ملک افضل صاحب نے کہا کہ یہ اصلی نوٹ ہے ، اسنے کہا بابو جی ہمیں کیا پتا ہم غریب لوگ تبدیل کرانے جائیں تو ادھر ہی دھر لئے جائیں لہذا ملک صاحب نے میری ڈیوٹی لگائی اور میں کرنسی تبدیل کرا کے لے آیا . ملک افضل صاحب نے اپنی جیب سے بھی کچھ رقم ملا کر اسے وہ رقم دی تو اسنے نہایت مشکور نظروں سے ہمیں دیکھا اور چند روز بعد ہی اسنے اپنے شوہر سے مل کر اسنے ایک چھوٹی سی اشیاۓ خورد و نوش کی دکان ڈال دی ہے جہاں سے پچاس جھونپڑی والوں کو خریداری کے لئے دور نہیں جانا پڑتا اور نہ ہی اس جپسی کو مسواکیں بیچنے ، معاشرہ اتنا گندہ ہے کہ اسکے دانت صاف کرنے کی بھی ضرورت نہیں

DSC03608[1]

You must be logged in to post a comment Login