امرود والا اور چھلی والا – طنز و مزاح – تحریر علامہ افتخار

امرود والا اور چھلی والا – طنز و مزاح – تحریر علامہ افتخار
گاھک -بھائی امرود کیا بھاؤ ہیں … امرود والا- سو روپے کلو …. گاھک – بھائی بازار میں تو اسی روپے کلو ہیں … امرود والا- کس بازار کی بات کررہے ہو چاقو لہراتے ہوۓ غصے سے بولا . گاہک خوفزدہ ہوکر .. اچھا اچھا ٹھیک ہے بیس روپے کے دے دو بس ذرا ذائقہ چکھنا ہے اور ہاں یار خیال رہے پہلے امرود دھو ضرور لینا کیونکہ تم برلب سڑک بیٹھے ہو گردو غبار بہت زیادہ ہے . امرود والا . تمہارا دماغ درست نہیں سارا دن لوگ مجھ سے منوں امرود لے کر کھاتے ہیں اور ساتھ لیجاتے ہیں کبھی مرتو نہیں گۓ تم جتنے نخرے کروگے اتنی ہی بیماری زیادہ تم پر حاوی ہوگی . اور دوسری بات یہ کان کھول کر سن لو بیس کا کوئی حساب نہیں پچیس کے کم سے کم ملیں گے اور تیسری بات یہ کہ یہاں پانی کا کوئی انتظام نہیں ایسے ہی کھانا ہونگے اور پہلی بات یہ چاقو تو تم دیکھ ہی رہے ہو …… اور اسطرح امرود والے نے گرد سے اٹے امرود مصالحہ لگا کر گاہک کو کھلا دیے کٹے امرود کا ایک ٹکڑا خود دکاندار سے زمین پر گر پڑا جسے امرود بیچنے والے نے ایمانداری دکھاتے ہوۓ زمین سے اٹھا کر اپنی میلی قمیص سے اچھی طرح صاف کردیا تاکہ مٹی اتر جاۓ جراثیم اور پسینہ خواہ جتنا مرضی لگ جاۓ اور ساتھ ساتھ سمجھاتا بھی رہا کہ جتنا وہم کروگے اتنا جلد مرو گے کیونکہ وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا

گدھی ریھڑی پر لگائی گئی چھلی والا – جی باؤ جی مزیدار چھلی کھاؤ گے تو یاد کرو گے گاہک – بھائی کیا یاد کرو گے چھلی ہے کہ دونی کا پہا ڑا ….
باؤ جی مسالہ خود تیار کیا ہے کیا کرارا ہے یہ کہتے کہتے چھلی والے نے ایک بڑے سے مٹی کے پیالے میں چھلی ڈالی جو اس مسالے سے بھری تھی جو عین اس گدھی کی پشت کے پاس برھنہ پڑا ہوا تھا باقی تو آپ سمجھ ہی گۓ ہونگے ….. اسے کھٹے کے ساتھ رگڑ رگڑ کر لگانے لگا اور ساتھ ساتھ بس یہی کہتا جاتا تھا کہ کیا یاد کرو گے …. کیا یاد کرو گے

 

Tell Me More is spreading the laughter this summer.

Tell Me More is spreading the laughter this summer.

You must be logged in to post a comment Login