نیکی برباد گناہ لازم – تحریر علامہ افتخار

old

نیکی برباد گناہ لازم – تحریر علامہ افتخار
بہت سال پہلے کی بات ہے گاؤں کی ایک معمر خاتون نے مجھے کہا کہ بیٹا میری دوائی ختم ہوگئی ہے اور وہ گاؤں کے میڈیکل سٹور پر میسر نہیں میں نے کہا کوئی بات نہیں میں شہر سے آپکو لادیتا ہوں اور پیسے آپ رکھیں میں خود سے لادیتا ہوں مگر انہوں نے کہا کہ آپ پیسے ضرور رکھیں لہٰذا میں نے اس مصلحت کے تحت کہ انکی انا کو ٹھیس نہ پہنچے رقم جیب میں ڈال لی اور شہر کی طرف روانہ ہوگیا . شہر کے مختلف حصوں کی خاک چھان کر دوائی مل سکی . بزرگ خاتون نے بازار سے آنے جانے والے ایک دو لڑکوں سے میرے بارے پوچھا کہ علامہ ابھی تک دوائی لے کر نہیں آیا ایک شرارتی لڑکے نے ایسے ہی جھوٹ بول دیا اور کہا کہ وہ تو ہوٹل سے کھانا کھا رہا تھا تمہارے پیسے سے خاتون نے اسکی بات پر یقین کر لیا اور میرے گھر چلی آئیں میرے گھر میں میرے بہنوئی اور بہن مہمان آے ہوے تھے . خاتون اونچی آواز میں پکارنے لگی کہ علامہ میرے پیسے کھا گیا دوائی کے لیے دیے تھے . میرے بہنوئی خاتون کو تسلی دینے لگے اور اپنی جیب سے پیسے نکال کر اس معمر خاتون کو دیے اور ساتھ یہ کہا کہ وہ بالکل ایسا نہیں کہیں دیر سویر ہوگئی ہوگی . اتنی دیر میں میں اپنے گھر پہنچ گیا دوائی میرے ہاتھ میں تھی کیونکہ خاتون کے گھر کو باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی . میں نے خاتون کو دوائی دی اور بزرگ خاتون نے دعا ئیں دیں . میں معاملہ جان گیا تھا میری آنکھوں میں آنسو تھے … میں نے کچھ لمحے سوچا کہ یار اتنی بے عزتی کروا دی انہوں نے میں تو نیکی کر رہا تھا آئند ہ نہیں کرونگا . پھر خیال آیا کہ کیا میرے ایسا کرنے سے نیکی کرنے والے دیگر افراد کیا نیکی کرنا چھوڑ دیں گے نہیں اگر برائی چلتی رہے گی تو نیکی بھی چلتی رہے گی آخر کار نیکی جیتے گی … یہ سوچ کر اپنے دل کو سمجھا لیا

نہ شیوالے نہ کلیسا نہ حرم جھوٹے ہیں
بس یہی سچ ہے کہ تم جھوٹے ہو ہم جھوٹے ہیں
ان سے ملییے تو خوشی ہوتی ہے ان سے ملکر
شہر کے دوسرے لوگوں سے جو کم جھوٹے ہیں
کچھ تو ہے بات کہ تحریروں میں تاثیر نہیں
جھوٹے فنکار نہیں ہیں تو قلم جھوٹے ہیں

You must be logged in to post a comment Login