سرسوں کا ساگ

11

سرسوں کا ساگ

تحریر – علامہ افتخار

آج میں اپنے پیارے قارئین کو ساگ کے بارے دلچسپ باتیں بتانا چاہتا ہوں
ساگ ویسے تو موسم رت خوشگوار ہوتے ہی ستمبر اور دیسی مہینے اسوج سے مختلف علاقوں سے مارکیٹ میں آنا شروع ہوجاتا ہے اور شائقین اسے لذت کام و دہن کا ذریع بناتے ہیں . ان دنوں میں ساگ کی مختلف اقسام بھی سننے کو ملتی ہیں جیسا کہ

نک شک کا ساگ
پتوں کا ساگ
گوبھی سروں کا ساگ
اور پھر آتا ہے
سرسوں کا ساگ
سرسوں کے ساگ کی بات ہی الگ ہے اسکے پیلے رنگ کے پھول اور نیچے سرسبز و شاداب ٹہنیاں جب ہوا میں جھولتی ہیں تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اپنی شادی سے ایک دو روز پہلے مٹیاریں پیلے اور سبز رنگ کے ملٹی کلرز لباس پہنے اپنی رسم منہدی پر مسکرا مسکرا کر اپنی سکھیوں سے ڈھولک پر ماہیۓ اور ٹپے سن رہی ہوں .

یہاں ساگ سے مہندی کی بات لکھتے مجھے اپنے قریبی ہمسائیوں کے ایک بزرگ شاہ جی مرحوم یاد آگۓ الله انہیں غریق رحمت فرماۓ بہت ہی نیک اور درویش منش انسان تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ انکے والد مرحوم اتنے سادہ اور قناعت پسند انسان تھے کہ انہں کھانے کو جو بھی روکھا سوکھا ملتا کبھی گلہ گزاری نہیں کرتے تھے اسی طرح وہ ایک شام جب مسجد سے نماز مغرب ادا کرکے گھر واپس آے تو انکی اہلیہ اپنی ہمسائی جو بیمار تھیں انکی خبرگیری کے لیے جارہی تھیں تو انہوں نے جاتے جاتے بڑے شاہ جی کو بتایا کہ روٹیاں چنگیر میں جبکہ ساگ فلاں برتن میں رکھا ہے کھا لیجئے گا گاؤں میں تب تک بجلی بھی نہیں آئ تھی مٹی کا دیا ہی ہوا کرتا تھا . شاہ جی نے جب تک کھانا کھا لیا تبھی انکی اہلیہ بھی واپس آگئیں . بیگم صاحبہ نے پوچھا جی کھانا کھا لیا ساگ مزیدار تھا ؟ فرمانے لگے جی بہت اچھا تھا لیکن آج آپ شائد نمک مرچ ڈالنا بھول گئیں تھیں بہرحال میں نے خوب سیر ہوکر کھا لیا تو وہ پریشان ہوگئیں کیونکہ نمک مرچ تو انہیں اچھی طرح یاد آیا کہ ڈالی تھی …. اور پھر وہ برامدہ کی طرف بھاگتی ہوئی گئیں اور واپس آکر بولیں ہاۓ میں مرگئی شاہ جی ساگ تو وہیں پر برتن میں اسی طرح پڑا ہوا ہے برامدہ میں…. میں نے دوسرے برتن میں مہندی گھول کر رکھی ہوئی تھی بالوں پر لگانے کے لیے . آپ نے مہندی کھا لی ہے . انہوں نے دیا شاہ جی کے قریب کیا تو دیکھا شاہ جی کی زبان پر مہندی کا رنگ چڑھ چکا تھا .

ایسے ہی ایک اور درویش منش انسان جو جاگتے بیٹھتے وقت ” الله ہو غنی ” کا ورد کیا کرتے تھے انکی بیگم سے ان کی سہیلی نے کہا کہ آپکے شوہر بڑے الله والے ہیں میں نے ہمیشہ انہیں ” الله ہو غنی ” پکارتے سنا ہے تو خاتون خانہ نے رازداری سے بتایا کہ انکے شوہر نامدار انکے بہت ہی زیادہ تابعدار ہیں اور ….. موصوفہ کے والد کا نام بھی عبدل غنی ہے .

بات سرسوں کے ساگ سے کیا اسکی لہلہاتی فصلوں سے بھی آگے چلی گئی ہے . ساگ اپنی افادیت کے اعتبار اور منفرد ذائقے کے معیار میں بہت سی خوبیوں سے مزین ایک نایاب تحفہ ہے جسکی قدر دیس والوں سے زیادہ پردیسیوں سے پوچھیں جو کہتے ہیں سردیوں میں پاکستان جائینگے اور پھر ماں کے ہاتھوں سے بنی مکئی کی روٹی مکھن اور ساگ کھائیں گے . کبھی محاوروں میں سنتے ہیں کہ لو جی وہ اپنی باتوں سے مکھن لگا رہا ہے لیکن ساگ اور مکھن کا امتزاج ایسے ہی ہے جیسے پنسدیده روح کا روح سے ملاپ

اکثر گھرانوں میں ساگ بنانے کی ماہر بہو کو سگھڑ سمجھا جاتا ہے لہٰذا اپنی ساس کے دل میں گھر کرنے کے لیے ساگ ایک مجرب نسخہ بھی ہے یقین نہ اۓ تو آزما کر دیکھ لیں

آخر میں آپ سب پیاروں سے اجازت لینے سے پہلے ساگ کے چند طبی فوائد آپکو بتاتا چلوں

سرسوں کا ساگ کھانے سے

خون کی کمی نہیں ہوتی

کینسر کا خطرہ نہیں رہتا

آنکھیں کمزور نہیں ہوتیں

جسمانی کمزوری نہیں ہوتی
…………………………………………. لیجیے پیارے قارئین خوش رہئیے اپنا بہت سا خیال رکھیں ساگ خود بھی کھائیں دوسروں کو بھی کھلائیں ” تڑکا لگا کے “

You must be logged in to post a comment Login