حضرت کیلیاں والا کے معروف نواب شمیم احمد نے آخرکار علامہ افتخار کو ڈھونڈھ لیا

1

حضرت کیلیاں والا کے معروف نواب شمیم احمد نے آخرکار علامہ افتخار کو ڈھونڈھ لیا

تحریر و تحقیق – علامہ افتخار

انٹرنیٹ فیس بک اور گوگل آپ کا شکریہ

کہتے ہیں ڈھونڈنے والے ڈھونڈ لیتے ہیں بہرحال دنیا اب واقعی میں گلوبل ویلج بن چکی ہے

چند روز پہلے فیس بک کے ذریعہ سے نوجوان شاعر ادیب کالم نگار اور سماجی کارکن جن کی زیادہ پہچان کاٹیج ( جھگی ) سکولز کے بانی کے طور پر ہے نے فیس بک کی سکرولنگ کرتے احقر کو ڈھونڈ نکالا اور جھٹ سے ایک میسج کیا اوراسطرح سے پہلے ہی ٹیلیفونک رابطہ پر حضرت کیلیاں والا جو موصوف کا گاؤں ہے میں آنے کی دعوت دے دی جسے میں نے بخوشی قبول کرلیا کیونکہ اس میں مچھلی کی دعوت پر زور زیادہ دیا گیا تھا ( : حضرت کیلیاں والا علی پور چٹھہ سے ہیڈ قادر آباد جاتے ہوے صرف دس منٹ کی ڈرائیو پر 5.7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ ہیڈ قادر آباد حضرت کیلیاں والا سے قریب دس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے . نواب شمیم احمد نے اپنے گاؤں میں علامہ اقبال پبلک سکول کے نام سے طویل عرصہ سے سکول بنایا ہوا ہے جس میں تین سو سے زائد طلباء و طالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں جبکہ سکول اوقات کے بعد یہی سکول ایک دستکاری سکول کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے جس میں گاؤں اور اس سے ملحق علاقہ کی بچیاں اور خواتین سلائی کڑھائی سیکھنے آجاتی ہیں نواب شمیم احمد کی علمی ادبی خدمات پر حال ہی میں ایک تقریب میں ” شریف کنجاھی ” ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے کم وسائل کے باوجود اپنے گاؤں اور ہیڈ قادر آباد میں جھگی سکولز بھی بنا رکھے ہیں جن میں معاشرے کے ٹھکراۓ ہوے سینکڑوں بچے جو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے ردی اور کچرا اٹھا کر اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں اب وہ بچے بغیر کسی فیس کے معاشرہ میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے اپنے آپ کو زیور تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں جنھیں جناب نواب شمیم احمد اور انکے چند دوست اپنے محدود وسایل مخالفت اور مشکلات کے باوجود مفت کتابیں بیگ اور یونیفارم مہیا کرکے انہیں پڑھا رہے ہیں جسکی جتنی تعریف کی جاۓ کم ہے .

پرتپاک استقبالیہ کے بعد نواب صاحب مجھے لے کر اپنے گاؤں کے ہی ہوٹل جو روڈ کنارے پر ہی واقع تھا پہنچ گۓ ہوٹل کے مالک نواب شمیم احمد کے دوست ہیں اور حکیم بھی ہیں اسلئے فرائیڈ فش کی ریسپی میں بھی حکمت کا آزمودہ اور مجرب نسخہ ڈال دیتے ہیں جس سے وہ لذت کی بلندی پر پہنچ جاتی ہے . مچھلی پانی میں کھیل کود کے بعد اب کڑاہی سے بھی باہر اچھلتی نظر آرہی تھی روٹی توے پر جب زیادہ پھولنے لگتی ہے اہل خانہ کہتے ہیں کھانے والے کو زیادہ بھوک لگی ہوتی ہے جس میں اس حکیمی نسخے کا ہی کمال تھا اب یہ معدے میں کیا طوفان برپا کرے گی اسکے لئے آپ کبھی میرے ساتھ حضرت کیلیاں والا ضرور چلیے اور خصوصی طور پر نواب شمیم احمد ایسے باہمت جوانوں اور انکے رفقاء کی ضرور حوصلہ افزائی کریں تاکہ غربت و جہالت کے اندھیرے جنہیں وہ مٹانے کے لیے اپنا دن رات ایک کیے ہوے ہیں اپنے نیک مشن کو وہ مستقل طور پر کامیابی کے ساتھ لے کر آگے چل سکیں

You must be logged in to post a comment Login