پروفیسر محمد نسیم اختر – تلونڈی موسیٰ خان کی ایک عظیم شخصیت

پروفیسر محمد نسیم اختر – تلونڈی موسیٰ خان کی ایک عظیم شخصیت
تلونڈی موسیٰ خان – پروفیسر محمد نسیم اختر تین جون 1948 کو تلونڈی موسیٰ خان کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوے . آپ بچپن سے ہی بڑے محنتی اور ذہین تھے . آپ نے اس زمانے میں ایم – ایس- ای زوالوجی کی اعلی تعلیم حاصل کی ، جب تعلیم عام نہیں تھی … اس وقت مڈل ، میٹرک کو بھی بہت بڑی اہمیت حاصل تھی . آپ نے میٹرک کا امتحان 1964 میں گورنمنٹ ہائی سکول تلونڈی موسیٰ خان سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا . پروفیسر محمد نسیم اختر کو گورنمنٹ ہائی سکول تلونڈی موسیٰ خان کی پہلی ہائی درجہ کی جماعت میں پڑھنے کا بھی اعزاز ہوا کیونکہ اس سے پہلے اس سکول میں مڈل تک کلاسیں ہوتی تھیں . اس وقت کے ہیڈ ماسٹر صاحب کا نام میر سلطان محمود ہے . آپ گورنمنٹ اسلامیہ کالج میں 1975 تا 2008 بطور پروفیسر اور ہیڈ آف زوالوجی ڈیپارٹمنٹ تعینات رہے . پروفیسر محمد نسیم اختر نے اپنی سروس کے کچھ سال ، بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر گورنمنٹ زمیندارہ کالج گجرات میں بھی گزارے . پروفیسر محمد نسیم اختر کے لگاۓ ہوے پودے آج تنا وردرخت بن چکے ہیں ، جو پروفیسر محمد نسیم اختر کے لئے صدقہ جاریہ بن چکے ہیں . پروفیسر صاحب کو الله نے نہایت حلیمی ، عاجزی اور انکساری والی طبیعت سے نوازا ہے . پروفیسر محمد نسیم اختر بڑے خوش اخلاق ، ہمدرد اور انسان شناس ہیں . الله پاک نے پرفیسر محمد نسیم اختر کو قلم کی دولت سے بھی مالا مال کر رکھا ہے . آپ کی لکھی ہوئی نہایت خوبصورت نعتیں عشق محمدی کی عکاس ہیں . آپ نے نظمیں اور غزلیں بھی نہیات کمال درجے کی لکھی ہیں . پروفیسر محمد نسیم اختر کا مجموعہ نعت اور مجموعہ غزل دو مختلف کتب کی شکل ، اور ایک ہی نام ” کیسی یہ سوغات ملی ” سے بہت جلد شایع ہوکر منظر عام پر آ رہی ہیں ، ملاحظہ فرمائیں پروفیسر محمد نسیم اختر کی عشق محمدی میں پھول نچھاور کرتی ہوئی ایک خوبصورت نعت

نعت رسول مقبول
پروفیسر محمد نسیم اختر 

آتی جاتی رہتی ہے تو ، ان کے در پے عام نسیم
کہنا ملے نسیم کو بھی دید کا بس ایک جام نسیم
کھیلی اس وللیل سے ہے تو ، سانسوں سے محظوظ ہوئی
تیرے جیسے قسمت کس کی ، کس کا ہے یہ کام نسیم
جالی کے اس پار بھی تو جاتی ہو گی باد نسیم
تیرے جیسا نام ہے میرا پہنچا دے میرا سلام نسیم
روضے تک رسائی تری ہے اسی لئے اتراتی ہے
مجھ کو بھی بتلا دے کیسے ، ہیں وہ در اور بام نسیم
ذوق دید اب بڑھتا جاۓ سفر کا مجھ کو ازن ملے
ادب سے ان کے آگے جھک کر دینا یہ پیغام نسیم
لا کر خوشبو ان کی در کی میری روح معطر کر دے
تو بھی تو نسیم ہے اور میرا بھی ہے نام نسیم
بسے رہیں خیالوں میں وہ کرتا رہوں مدح سرائی
کاش بنے معمول یہ میرا صبح ہو یا شام نسیم
بن جاۓ گا جان و دل سے ان کا جب بے دام نسیم
ہو جاۓ گا خوب مداوا رہے نہ تشنہ کام نسیم
ملی ہیں ان کے صدقے ہی میں تجھ کو یہ توفیق نسیم
ورنہ کہاں نسیم کہاں ہے ، ان کا ذکر تام نسیم
الله سے دعا ہے کہ الله پروفیسر محمد نسیم اختر کو صحت و سلامتی والی عمر دراز نصیب فرمائیں ، اور وہ نبی رحمت کی محبت میں پھول نچھاور کرتے جائیں ، کہ اسی میں ہم سب کی یقینی بخشش ہے

You must be logged in to post a comment Login